arrest

فرضی NGOکی آڑ میں ملی ٹنسی کی فنڈنگ اور بھرتی کے منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش

تحریک المجاہدین کیلئے سرگرم 5ملزمان کپوارہ اورسوپور سے گرفتار:پولیس

کپوارہ//کپوارہ پولیس نے جمعرات کودعویٰ کیاکہ اس نے فوج کیساتھ ملکر اس سرحدی ضلع میں ملی ٹنسی کی فنڈنگ اور بھرتی کے گہری جڑیں رکھنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا۔پولیس کے مطابق اصلاح فلاحی ریلیف ٹرسٹ کی آڑ میںملی ٹنٹ تنظیم تحریک المجاہدین جموں و کشمیرکیلئے نئے ملی ٹنٹوںں کی بھرتی اور فنڈنگ کے نیٹ ورک میں شامل6ملزمان کی گرفتاری عمل میں لاکراُن کی تحویل سے 5پستول ،10میگزین،گولیوں کے49رائونڈ،2دستی بم اورایک آئی ای ڈی برآمد کرکے ضبط کرلی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ایک بیان میں پولیس نے کہا کہ اس نے فوج کے 21 اور 47 آر آر کے ساتھ مل کر کپواڑہ ضلع کے چیرکوٹ علاقے کے بلال احمد ڈار نامی ایک فرد کی گرفتاری کے بعد’گہری جڑوں‘والے ملی ٹنسی فنڈنگ اور بھرتی کے ایک ماڈیول کا پردہ فاش کیا۔بیان کے مطابق فوج اور کپواڑہ پولیس نے کپواڑہ کے عام علاقے نطنوسہ اور لولاب کے علاقوں سے ایک شخص کو پکڑنے کیلئے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا۔ مکمل پوچھ گچھ کے بعد، اس شخص نے انکشاف کیا کہ وہ شمالی کشمیر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 5 دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر ایک فرضی این جی او ’’اصلاح فلاحی ریلیف ٹرسٹ‘‘ (IFRT) کی آڑ میں ملی ٹنسی فنڈنگ کاریکیٹ چلا رہا تھا جس میں غریب اور نادار خاندانوں کے لئے امداد رقم فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔پولیس نے مزید بتایاکہ مذکورہ ملزم مختلف دیہاتوں میںاجتماعات یا اجلاسوں کا انعقاد کرکے فنڈنگ کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے اور بھرتیوں میں مدد کرنے میں سرگرم عمل تھا جہاں وہ فرضی این جی او (’اصلاح فلاحی ریلیف ٹرسٹ‘)کے دیگر اراکین کے ساتھ نوجوانوں کو ملک دشمن سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا تھا۔پولیس ترجمان نے کہا کہ بلال احمد ڈارنے دوران پوچھ تاچھ دیگر ساتھیوں کے نام بھی ظاہر کئے، جن میں کچلو لنگیٹ کا واحد احمد بٹ،سنگھ پورہ، بارہمولہ کا جاوید احمد نجار اور 3 افراد مشتاق احمد نجار ساکن براٹھ سوپور اور بشیر احمد میرساکنہ منڈجی سوپور شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیرکوٹ کپوارہ سے تعلق رکھنے والا ایک اور ملزم زبیر احمد ڈار، جو بلال احمد کاچچازادبھائی ہے، بھی اس ماڈیول میں سرگرم عمل تھا۔پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس ماڈیول کو شمالی کشمیر میں تحریک المجاہدین جموں و کشمیر کی کارروائیوں میں مدد کیلئے پاکستان میں مقیم ہینڈلرز کے ذریعے مربوط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہگروپ کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ مختلف دیہاتوں میں جا کرفرضی این جی او’اصلاح فلاحی ریلیف ٹرسٹ کی آڑ میں تقریبات اور اجتماعات منعقد کرے اور خیرات کیلئے کہہ کر پیسے اکٹھے کرے اور بھرتی ہونے والے ممکنہ سافٹ ٹارگٹ کی تلاش بھی کرے،۔پولیسں نے مزید کہاکہ این جی او کے نام پر موجود اکاؤنٹس تحریک المجاہدین جموں و کشمیر کیلئے منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ15 اگست کے آس پاس اور ہندوستان کے مرکزی وزیر داخلہ کے بارہمولہ کے دورے کے دوران ملک مخالف پوسٹرز چسپاں کرنے کا بھی ذمہ دار تھا۔پولیس کے ترجمان نے کہاکہ بلال احمدڈار ساکنہ چیرکوٹ کپوارہ نے خاص طور پر اپنے پاکستانی ہینڈلرز کی ہدایت پر14 اگست کو مرکزی جامع مسجد کپواڑہ کے اندر پاکستانی پرچم لہرانے کا اعتراف بھی کیا۔ پولیس ترجمان نے مزید کہاکہیہ گروپ سرگرمی سے دھماکہ خیز مواد بھی اکٹھا کر رہا تھا جس کے بارے میں جانا جاتا ہے،کہ آئی ای ڈی میں استعمال ہوتا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم بلال اور اس کے ساتھیوں کو سرحد پار سے ہدایات مل رہی تھیں کہ ڈاکٹر شاہصاحب عرف منظور شاہ عرف جنرل عبداللہ کا اصل نام غلام رسول شاہ آف ہائہامہکپواڑہ ہے، جو پاکستان میں مقیم (ملی ٹنٹ) ہینڈلر ہے، طارق پیر نے اصل میں محمد سلطان پیرساکنہ سلی کوٹ کپوارہ بھی ایک پاکستان میں مقیم (ملی ٹنٹ) ہینڈلر عرف یوسف بلوچ عرف اسامہ عرف قریشی اور ایک عرف حمزہ عرف مشتاق ہے۔انہوں نے کہا،کہ واحد احمد بٹ عرف توحیدبھرتی اور ملی ٹنٹوں کی فنڈنگ کے ماڈیول کے پیچھے ماسٹر مائنڈ تھا۔پولیس نے مزید کہاکہ ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈی تیار کرنے کیلئے خام مال اور مجرمانہ مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برآمد ہونے والوں میں ایک آئی ای ڈی کے علاوہ 5 پستول،10 میگزین، 49 پستول کے راؤنڈ اور 2 دستی بم شامل ہیں۔پولیس نے کہا کہ تمام افراد کیخلاف ایف آئی آرنمبر264/2022زیر قانونی سیکشن7/25آرمز ایکٹ،اوریواے (پی)ایکٹ کے سیکشن13،18،20اور38 کے تحت مزید تفتیش کیلئے تھانہ کپواڑہ میں درج کیا گیا ہے۔