farooq abdullah

غیر جمہوری نظام میں عوام کی کہیں شنوائی نہیں تھی ،عوامی مسائل سنگین سے سنگین تر ہوتے ہیں

جمہوری حکومت عوام کے پہاڑ نما مسائل و مشکلات حل کرنے میں مصروف/ڈاکٹر فاروق

سرینگر// جموں وکشمیر حکومت یہاں کے عوام کے پہاڑ نما مسائل و مشکلات حل کرنے میں لگی ہوئی ہے جو مسائل و مشکلات یہاں طویل غیر جمہوری نظام کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج پارٹی خواتین ونگ کے صوبائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے خواتین ونگ صدر ایڈوکیٹ شمیمہ فردوس، صوبائی صدر ایڈوکیٹ شوکت میر اور خواتین ونگ صوبائی صدر انجینئر صبیہ قادری نے بھی خطاب کیا جبکہ پارٹی کے معاون جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، ایم ایل اے حضرت بل سلمان علی ساگر اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔ اس دوران اجلاس میں خواتین ونگ کی پارٹی سرگرمیوں، تنظیمی اموارات اور لوگوں کے مسائل و مشکلات بھی زیر غور آئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ5اگست2019کو جب جموں وکشمیر کی تنظیم نو کی گئی اور اس تاریخی ریاست کے دو ٹکڑے کئے گئے ، اسے مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دیا گیا اور طول عرصے تک ایک غیر جمہوری نظام کے تسلط میں رکھا گیا، جس کی وجہ سے یہاں کے عوام کو سخت ترین مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ۔ غیر جمہوری نظام میں عوام کی کہیں شنوائی نہیں تھی اور اس دوران عوامی مسائل سنگین سے سنگین تر ہوتے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہاں ایک جمہوری نظام قائم ہوا اور عوامی حکومت معرض وجود آئی جو دن رات یہاں کے عوام کی راحت کیلئے کام کررہی ہے۔ عوامی نمائندے ہر وقت لوگوں کیلئے دستیاب ہوتے ہیں۔ لوگوں کی شنوائی ہورہی ہے مسائل ومشکلات اور مطالبات سُنے جارہے ہیں اور ان کا سدباب کیا جارہاہے، جو ایک خوش آئندہ بات ہے۔ خواتین کو اپنے حقوق کیلئے کمربستہ رہنے کی تاکید کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ہر شعبے کی طرح سیاست میں بھی خواتین کی شمولیت انتہائی ضروری ہے ۔پنچایتی اداروں میں اس وقت خواتین کیلئے 33فیصد نشستیں مختص ہیں اور یہ 50فیصد ہونے کی اُمید ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پڑھی لکھی ، باصلاحیت اور عوامی ساکھ رکھنے والی خواتین کو آگے لایا جائے ، جو اپنے اپنے علاقوں کی صحیح نمائندگی اور تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرپائیں گی۔ خواتین کی بااختیاری میں نیشنل کانفرنس کے کلیدی رول کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا یہ جماعت ہر دور میں خواتین کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرد اور خواتین سماج کے دو پہئے ہیں اور خواتین کے بغیر سماج ادھورا ہے اور نیشنل کانفرنس اس بات کا بخوبی سمجھتی ہے، ہماری جماعت نے اپنے قیام کے بعد سے سماجی اصلاحات اور تعلیم نسواں کیساتھ ساتھ سیاست اور معاشی ترقی میں خواتین کی شمولیت کیلئے اقدامات کئے ہیں۔