غلام نبی آزاد پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی

ملک کی اولین سیاسی جماعت کانگریس کو ایک اوربڑا جھٹکا

سری نگر//گزشتہ کم وبیش ایک دہائی سے روبہ زوال ،ملک کی اولین سیاسی جماعت کانگرنس کواُسوقت ایک بڑا جھٹکا لگا ،جب سابق مرکزی وزیراورسینئر وبااثر سیاسی لیڈر غلام نبی آزاد نے کانگریس پارٹی کے تمام عہدوں اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ۔انہوںنے سونیا گاندھی کوارسال کردہ 5صفحات پر مشتمل خط میں راہول گاندھی پرپارٹی کے سینئر لیڈروں کی توہین کرنے کاالزام عائد کیا۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق ، سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے جمعہ کو پارٹی کے تمام عہدوں بشمول بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے 26اگست کو پارٹی کی عبوری صدر سونیا گاندھی کو پانچ صفحات کا ایک خط بھیجا جس میں غلام نبی آزاد نے پارٹی کے ساتھ اپنی طویل وابستگی اور اندرا گاندھی کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا ذکر کیا۔غلام نبی آزاد نے صحت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنظیمی عہدے سے استعفیٰ دینے کے چند دن بعد اپنے تفصیلی استعفیٰ خط میں لکھا، کانگریس پارٹی کی صورتحال ‘نو واپسی’ کے مقام پر پہنچ گئی ہے۔غلام نبی آزاد نے لکھا ،’’سارا تنظیمی انتخابی عمل غلط اور دھوکہ دہی پرمبنی ہے۔ ملک میں کہیں بھی تنظیم کے کسی بھی سطح پر انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی 24 اکبر روڈ پر بیٹھ کر فیصلے لے رہی ہے‘‘۔غلام نبی آزاد نے نام لئے بغیر راہول گاندھی پر حملہ کیا اور کہا کہ پارٹی نے قومی سطح پر بی جے پی اور ریاستی سطح پر علاقائی پارٹیوں کو تسلیم کیا ہے،یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ پچھلے8 سالوں میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں ایک غیر سنجیدہ فرد کو کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ 2019 کے انتخابات کے بعد سے صورتحال بگڑ گئی ہے، جب راہول گاندھی نے ہچکچاہٹ میںپارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دیا اور پارٹی کے تمام سینئر عہدیداروں کی توہین کی جنہوں نے پارٹی کیلئے اپنی جان دی ہے۔سابق مرکزی وزیعنے مزید کہاکہ UPAکو تباہ کرنے والا ریموٹ کنٹرول ماڈل کانگریس پر لاگو ہوا۔انہوں نے سونیا گاندھی کوارسال کردہ تفصیلی خط میں لکھا’’جبکہ آپ محض ایک برائے نام شخصیت ہیں، تمام اہم فیصلے راہل گاندھی لے رہے تھے یا اس سے بھی بدتر ان کے سیکورٹی گارڈز اور پی اے‘‘۔غلام نبی آزاد نے مزید لکھا، کہ بدقسمتی سے2013 میں راہول گاندھی کے سیاست میں داخل ہونے کے بعد، اس سے پہلے موجود تمام مشاورتی میکانزم کو انہوں نے منہدم کر دیا‘‘۔73 سالہ لیڈر نے سونیا گاندھی کو ’نامزد شخصیت‘ قرار دیا اور کہا کہ راہل گاندھی اور ان کے سیکورٹی گارڈز اور پی اے اہم فیصلے لے رہے ہیں۔یادرہے غلام نبی آزادسابق وزیراعظم من موہن سنگھ کی سربراہی والی یو پی اے 2 کے دور میں مرکزی وزیر صحت تھے۔ جون 2014 میں، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی لوک سبھاانتخابات میں اکثریت حاصل کرنے اور مرکزمیں نریندرمودی کی سربراہی میں بھاجپا حکومت بننے کے بعدغلام نبی آزاد کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر مقرر کیا گیا۔تاہم چند برس قبل کانگریس کے23سینئرترین لیڈروںکی جانب سے ایک الگ پریشر گروپ بنانے کے بعدسے غلام نبی آزاد،کپل سبل اورآنند شرما جیسے سینئرلیڈران کوکانگریس کی فیصلہ سازباڈی سے دوررکھاگیا۔