عید افطر کے پیش نظر سرینگر کی بادام واری میں بادام کے شگوفوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے سیاحوں کا رش

عید افطر کے پیش نظر سرینگر کی بادام واری میں بادام کے شگوفوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے سیاحوں کا رش

گزشتہ تین دنوں میں لاکھوں سیلانیوںنے باغ کی سیر کی ، سڑکوں پر گاڑیاں قطار در قطار

سرینگر//عید الفطر کے دوسرے اور تیسرے روز کے پیش نظر پائین شہر کے رعناواری علاقے میں قائم بادام واری میں لوگوں کا اژدھام اُمڑ آیا ہے جبکہ گزشتہ تین دنوں سے گاڑیاں قطار در قطار گاڑیوں میں مقامی اور غیر مقامی سیلانی اور سیاح تواریخی بادام واری کی سیر کیلئے آتے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق پائین شہر کے رعناواری علاقے میں واقع تاریخی بادم واری میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور عید الفطر کے تیسرے روز بادام واری میں سیلانیوں کا اژدھام اُمڑ کر آیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک کا بدترین جام بھی لگا ۔ تاریخی ہاری پربت قلعے کے دامن میں واقع بادام واری میں لگے بادام کے درختوں پر پھوٹے شگوفوں سے ہر سو جنت کا سماں بندھ گیا ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لئے بڑی تعداد میں مقامی و غیر مقامی سیلانیوں کا تانتا بندھنے لگا ہے۔وی او آئی سٹی رپورٹرنے بادام واری کا دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ بادام کے درختوں پر پوٹھے سفید و گلابی رنگ کے شگوفے قابل دید ہیں جن سے روح کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ قطعہ اراضی سفید و گلابی رنگ کے پھولوں کے لباس میں ملبوس سیاحوں کی آمد کی منتظر ہے۔دریں اثنا وہاں موجود ایک غیر مقامی سیاح نے میڈیا کو بتایا کہ یہاں آکے کشمیر زیادہ ہی خوبصورت لگا۔انہوں نے کہا کہ ہم بیس برسوں سے یہاں آنے کا پلان بنا رہے تھے لیکن نہیں آپا رہے تھے۔ اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک غیر مقامی خاتون سیاح نے بتایا کہ سچ مچ یہ جنت ہے اور یہاں بادام درختوں پر پھوٹے شگوفے جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ایک مقامی سیاح نے بتایا کہ یہاں مزید درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگ جائیں۔ بہار نو کی آمد کے ساتھ ہی وادی کے دیگر مشہور سیاحتی مقامات و باغات کی طرح بادام واری میں بھی سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور خاص طور پر مقامی لوگ اپنی تھکن اور دنیاوی پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کے لئے بادام واری میں حاضر ہو جاتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ تین دنوں سے بادام واری میں مقامی اور غیر مقامی سیلانیوں کا رش برابر جاری ہے اور ان تین دنوں میں لاکھوں لوگوں نے باغ کی سیر کی ہے ۔