کولاہوئی گلیشیئر کا 25 فیصد حصہ پگھل گیا، ڈل جھیل آلودگی کی خطرناک سطح پر
سرینگر// یو این ایس// عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر منظر عام پر آنے والی سائنسی تحقیق نے کشمیر کی ماحولیاتی صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو وادی کو آنے والے برسوں میں پانی کی قلت، فضائی آلودگی، گلیشیئرز کے خاتمے اور آبی ذخائر کی تباہی جیسے بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق ماڈل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جموں کے شعبہ قانون کے محققین کی جانب سے شائع شدہ تحقیقی مقالے کے مطابق کشمیر کے قدرتی وسائل تیزی سے دباؤ کا شکار ہیں جبکہ ماحولیاتی قوانین کے باوجود ان پر عمل درآمد میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کولاہوئی گلیشیئر، جو کشمیر کا سب سے بڑا گلیشیئر تصور کیا جاتا ہے، گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران اپنے رقبے کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ کھو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق گلیشیئر سالانہ تقریباً 35 میٹر پیچھے ہٹ رہا ہے جبکہ اس کی موٹائی میں ہر سال اوسطاً ایک میٹر کمی واقع ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال دریائے جہلم، لیدر اور چناب جیسے اہم آبی ذرائع کے مستقبل کیلئے خطرے کی علامت ہے۔رپورٹ میں کشمیر کی معروف ڈل جھیل کی تشویشناک حالت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈل جھیل کا رقبہ ماضی کے 22 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر تقریباً 18 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ جھیل میں حیاتیاتی آکسیجن طلب کی سطح 23.5 ملی گرام فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو شدید آلودگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح جھیل کی تہہ میں سیسہ کی مقدار 6.8 پی پی بی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ نائٹریٹ اور دیگر آلودہ اجزاء میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔تحقیق کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دہائیوں میں ڈل جھیل کے تلچھٹ میں آرسینک اور سیسے جیسے زہریلے عناصر کی مقدار کئی گنا بڑھ سکتی ہے، جس سے آبی حیات اور انسانی صحت دونوں متاثر ہوں گے۔فضائی آلودگی کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سردیوں کے دوران سری نگر میں پی ایم2.5 ذرات کی سطح 348 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک ریکارڈ کی گئی، جو قومی معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق لکڑی اور کوئلے کے استعمال، گاڑیوں کے دھوئیں اور درجہ حرارت میں الٹ پھیر کے باعث وادی میں شدید سموگ پیدا ہو رہی ہے، جس سے سانس اور دل کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سری نگر شہر میں روزانہ تقریباً 450 میٹرک ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے، تاہم اس کا صرف 60 فیصد حصہ ہی باقاعدہ طور جمع کیا جاتا ہے جبکہ باقی کچرا کھلے مقامات پر پھینک دیا جاتا یا جلا دیا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں 520 سے زائد غیر قانونی ڈمپنگ سائٹس موجود ہیں جو زمین، پانی اور فضا کو آلودہ کر رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر میں جنگلات کی کٹائی، دلدلی علاقوں پر تجاوزات، جھیلوں میں گندگی کے اخراج اور بے ہنگم شہری توسیع نے قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق 2014 کے تباہ کن سیلاب سمیت کئی قدرتی آفات کے پس منظر میں ماحولیاتی بگاڑ بھی ایک اہم عنصر رہا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 21 صاف اور صحت مند ماحول کو بنیادی حق قرار دیتا ہے، تاہم زمینی سطح پر قوانین پر عمل درآمد کمزور ہے۔ ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ گندے پانی کی صفائی کے منصوبوں کو فعال بنایا جائے، جنگلات اور آبی ذخائر کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں اور ماحولیاتی پالیسیوں کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کیا جائے۔عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جاری اس تحقیق نے واضح کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو کشمیر کی قدرتی خوبصورتی، آبی وسائل اور ماحولیاتی توازن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کئے جائیں گے۔










