مودی حکومت پیپر لیک کے خلاف سخت اصلاحات کیلئے پرعزم// وزیر داخلہ امت شاہ
سرینگر// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹیکے لیے ملک، نوجوان اور طلبہ کسی بھی عہدے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اسی اصول کی عملی مثال ہے اور مودی حکومت نوجوانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اصلاحات نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔یو این ایس کے مطابق امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مودی حکومت ملک کے نوجوانوں کے احساسات کا احترام کرتی ہے اور امتحانی پرچوں کے افشا (پیپر لیک) جیسے واقعات کے خلاف مؤثر اور سخت اقدامات کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے اقتدار یا عہدے سے زیادہ اہم ملک کے نوجوان اور طلبہ کا مستقبل ہے۔ ان کے مطابق دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت طلبہ کے مفادات کو ہر دوسری چیز پر ترجیح دیتی ہے۔وزیر داخلہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور امتحانی نظام میں اصلاحات سے متعلق فیصلوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی اور امتحانات کے نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔امت شاہ نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ حکومت کے یہ اقدامات نیٹ امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں گے اور امتحانی عمل کو مزید شفاف اور قابل اعتماد بنائیں گے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے دھرمیندر پردھان کی بطور وزیر تعلیم خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے دورِ وزارت میں قومی تعلیمی پالیسی کے مؤثر نفاذ، مادری زبانوں میں امتحانات کے انعقاد، پی ایم شری اسکولوں کے دائرہ کار میں توسیع، ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ، ہنرمندی کی ترقی اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان بہتر رابطے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے۔امت شاہ نے کہا کہ دھرمیندر پردھان نے امتحانی نظام کو زیادہ جامع، شفاف اور طلبہ دوست بنانے کے لیے بھی قابل ذکر کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت کا دور بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے قومی عزم کے لیے ان کی وابستگی اور خدمات کا مظہر ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹ امتحان کے پیپر لیک تنازع پر بڑھتے ہوئے سیاسی اور عوامی دباؤ کے بعد دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کو مرکزی وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد حکومت امتحانی نظام میں اصلاحات اور پیپر لیک کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔










