سری نگر میں رات گئے آگ کی ہولناک واردات

شہر سرینگر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ

سرینگر///گزشتہ ایک ماہ میں شہر سرینگر میں درجنوں آگ کی وارداتیں رونماء ہونے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہرسرینگر میں آتشزنی سے نپٹنے کے دوران محکمہ فائر اینڈ ائمرجنسی عملے کو کئی تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہر سرینگر پوری وادی میں سب سے گنجان آبادی والا ضلع ہے جہاں پر آتشزدگی کے واقعات سب سے زیادہ پیش آرہے ہیں تاہم آگ پر فوری قابو پانے کیلئے کوئی جدید ٹیکنالوجی ابھی تک یہاں رائج نہیں کی گئی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق شہر میں انسداد آتشزدگی کیلئے وسائل کی کمی اور انتظامی بے حسی سے17لاکھ کی آبادی کے سروں پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں آتشزنی سے نپٹنے کے دوران محکمہ فائر اینڈ ائمرجنسی عملے کو کئی تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دریائے جہلم کی سطح آب میں کمی ہوئی ہیں جبکہ دریا کے دونوں کناروں پر سرینگر کی بیشتر آبادی آباد ہیں اور آگ کے واقعات کے دوران محکمہ فائر اینڈ ائمر جنسی عملہ دریائے جہلم کو ہی اصل سر چشمہ بنا کر پانی کی سپلائی حاصل کرتا تھا اور اس سے آگ بجھایا جاتا تھا۔ محکمہ کے ذرائع نے بتایا کہ پانی کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے محکمہ آب رسانی(جل شکتی) دوران شب پانی کی سپلائی بند کرتا ہے،جبکہ آگ کے موقعہ پر محکمہ فائر اینڈ ائمرجنسی سروس پی ایچ ای پائپوں سے مخصوص جگہوں پر پانی کی سپلائی حاصل کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں بھی تکنیکی پہلو کا ر مرما ہیں کیونکہ اکثر پانی کی بڑی پائپوں سے متعلقہ محکمہ سپلائی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے کیونکہ انہیں اس بات کے خدشات لاحق رہتے ہیں کہ کئی ان پائپوں کو نقصان نہ پہنچے اور پانی کی سپلائی منقطع نہ ہوجائے۔محکمہ فائر سروس کے ایک سابق افسر کاکہنا ہے کہ دریائے جہلم میں پہلے گھاٹ تعمیر کئے جاتے تھے جہاں پر سیڑیوں کے آخرمیں ایک چھوٹی سیڑھی ہوتی تھی جو دراصل انہیں موقعوں کیلئے تعمیر کی جاتی تھی،کیونکہ اس چھوٹی سیڑھی پر فائر سروس کا انجن رہتا تھا،اور پانی کی سپلائی پہنچاتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اب ان گھاٹوں کا چلن سرینگر میں بند ہوا ہے اور سیڑیوں کی تعمیر بھی نہیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے محکمہ فائر اینڈ ائمرجنسی کو آگ بجھانے کی کاروائی کے دوران کافی مشکلات کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ معاملہ کئی بار ضلع انتظامیہ کی نوٹس میں لایا گیا ہے تاہم ابھی تک معاملہ جوں کا توں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی میٹنگوں کے دوران بھی شہر سرینگر میں آتشزگی کے انسداد میں حائل تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں دور کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے جبکہ ضلع کے دیگر افسران سے بھی مسلسل خط وکتابت بھی جاری ہے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سرینگر میں دوران آتشزگی عملے کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ کہ ان خامیوں کو انتظامی سطح پر دور کرنے کی ضرورت ہیں۔واضح رہے کہ شہر سرینگر کے مختلف فائر اینڈ ایمرجنسی سٹیشنوں میں آج بھی 70دہائی کی گاڑیاں موجود ہیں جبکہ آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا جاتا ہے تاہم سرینگر میں اس طرح کی کوئی بھی پیشرفت دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔