مساجد کے باہر ، آستانوں کے نزدیک مختلف اقسام کی عطریات لوگوں کی روح معطر کرتی ہے
سرینگر//وادی میں رمضان میں عطریات کی فروخت میں اضافہ خاص طورپر شہر سرینگرکے بازاروں کے ساتھ ساتھ مساجد کے قریب بھی عطر کی دکانات لگائی گئی ہیں۔خاص طور پر رمضان کے آخری عشرے میں عطریات کی خریدو فروخت میں اضافہ ہوا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق خوشبو کا استعمال صدیوں سے کیا جا رہا ہے جو انسانی دماغ کو سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانی آسودگی اورتقدیس کی مظہرہوتی ہیں۔شہر سرینگر میں عطریات کی فروخت کئی صدیوں سے کی جارہی ہے اور یہ شہر روایتی انداز کے ساتھ ساتھ انوکھے انداز کی اپنی عطریات اورخوشبویات کے لئے بھی جاناجاتا ہے جہاں کئی دکانات پر عطر یات کی فروخت ہوتی ہے۔خاص طور پر خانقاہ معلی سرینگر میں آج بھی قدیم دکان موجود ہے جہاں مختلف عطریات فروخت کی جاتی ہے جو کہ قدرتی طریقہ سے تیار کی جاتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ اچھی خوشبو جب کپڑوں میں رچ بس جاتی ہے تو وہ ذہنی سکون بھی دیتی ہے اور اسے لگانے والے کے لئے ایک انوکھا احساس بھی پیداکرتی ہے۔یہاں پھولوں،صندل کی لکڑی کے تیل سے کشیدہ کئے ہوئے عطر مشہورہیں جو رمضان المبارک میں لوگ پسند کر رہے ہیں اور ان عطریات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔سرینگر کے بازاروں کے ساتھ ساتھ مساجد کے قریب بھی عطر کی دکانات لگائی گئی ہیں جو یہاں سے گزرنے والوں کو اپنی جانب راغب کر رہی ہیں۔مساجد آنے والے مصلی ان دکانات سے عطریات کو خریدکر اپنے کپڑوں کو لگارہے ہیں۔ساتھ ہی ان کی خصوصیات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔دیگر بڑی دکانات پر مشک، عنبر، مجموعہ اور دیگر اقسام کی عطریات کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔علاوہ ازیں شہر اہم اور بڑی مساجد کے قریب عید کے دن بھی عطریات کی دکانیں لگائی جاتی ہیں جو مرکز توجہ ہوتی ہیں۔عطر کی ایک چھوٹی سی شیشی کی قیمت تقریبا100روپئے ہوتی ہے اور اس کی خوشبو کئی دنوں تک کپڑوں کو مہکاتی ہیں۔خوشبو کے چاہنے والوں کے لئے مہنگی قسم کی عطریات بھی سرکردہ دکانات میں دستیاب ہیں۔کئی ایسی دکانات شہر میں قائم ہیں جن کے آباواجداد سے یہ کاروبار چلا آرہا ہے۔ان دکانات پر تقریبا 200اقسام کی خوشبویات اور عطریات دستیاب ہوتی ہیں۔رمضان المبارک میں ان خوشبویات اور عطریات کی فروخت میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان دکانات کے مالکین کے مطابق لوگ اس کو رمضان میں کافی پسند کرتے ہیں اور عطرلگانے والے اپنے خصوصی برینڈ ہی کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔










