شہر خاص لٹریری اینڈ کلچرل ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام

شہر خاص لٹریری اینڈ کلچرل ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام

اینجلز اکیڈیمی وکلچرل اکیڈیمی کے اشتراک سے یک روزہ محفل مشاعرہ منعقد،حاشر افنان کی کتاب کی اجرائی

سرینگر// شہر خاص لٹریری اینڈ کلچرل ویلفیئر سوسائٹی نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) اور اینجلز کلچرل اکیڈمی کے باہمی اشتراک سے کانفرنس روم، ٹیگور ہال سرینگر میں ایک روزہ محفل مشاعرہ کا انعقاد ہوا۔تقریب میں وادی کے شعراء، دانشوروںاور ثقافتی کارکنوں نے شرکت کی ۔یہ محفل نوجوان شعراء وشاعرات کیلئے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق یک روزہ پروگرام جو دونشستوں پر مشتمل تھی کی صدارت کشمیری زبان وادب کے نامور اسکالر ،ساہتیہ اکیڈیمی کے کنوینئرپروفیسر شادرمضان نے کی جبکہ ان کے ہمراہ ایوان صدارت میں سابق ڈائریکٹر دوردرشن اورمنفرد نسائی آواز،باکمال شاعرہ رخسانہ جبین نے بطور مہمان خصوصی ،آل انڈیا ریڈیوسرینگر کے سربراہ جی ۔آر آخون اور کلچرل اکیڈیمی کے سابق آفیسر ڈاکٹر فاروق انور مرزااور اکیڈیمی وسوسائٹی کے روح رواں طاریق احمد شیرا موجودتھے ۔ان کے علاوہ نامور شاعر عادل اشرف، ڈاکٹر رویسہ جیلانی کول، راتھر رشید، حاشر افنان، ڈاکٹرشکیل شفائی، تعمیل ارشاد کے ناظم نذیر، معراج الدین فراز ( ندائے کشمیر کے مدیر اعلیٰ )،یاور رشید (کے وائی سی ٹیم) ،ریاض ربانی ،ڈاکٹر گلزار احمد ،جمیل انصاری اور ماہ جبین غوثیہ نے شریک ہوکر تقریب کی رونق بڑھائی ۔تقریب کی پہلی نشست مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس کا آغاز تلاوت سے ہوا اس کے بعد نعت پیش کی گئی۔ ڈاکٹرطاریق شیرا نے مہمانوں کا استقبال کیا اور کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اوران کے ٹیلنٹ کوفروغ دینے کے ان کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاعری لوگوں کو متحد کر سکتی ہے اور سماجی تبدیلی کو آگے بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایک ایسے خطہ میں جہاں ایک بھرپور ادبی ورثہ موجود ہے۔محفل مشاعرہ میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا ۔ان میں عمر عالم ،ارواہ ہلال ،جانب احمد تالی ،رائق عادل ،اقراء نواز،حسن نصیر ،قیصر خان ،شادان رفیق ،شاہ وسیم ،شاہ زبیر ،بٹ سحران ،آسیہ رفیق ،عادل اشرف ،ریاض ربانی قابل ذکرہیں ۔دوسری نشست میں نوجوان شاعر حاشر افنان کی کتاب ’’بہاؤ‘‘کی رونمائی انجام دی گئی جس پر ڈاکٹر شکیل شفائی کا لکھا ہواپُر مغز تبصرہ نے سنایا ۔اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر شاد رمضان نے کشمیری زبان وادب کے چند اہم تاریخی واقعات کی طرف سامعین کی توجہ مبذول کی اورکہا کہ ہمارا دعویٰ ہے کہ کشمیری زبان وادب بلند پایہ ہے کیونکہ اس سے لل دید جیسی عظیم خاتون ،شیخ العالم ؒ جیسے برگذیدہ ولی ملے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں شاعری کا ذوق بڑھنا نئی نسل کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے ۔انہوں نے اسلام کے حوالے سے کہا کہ آپسی ہم آہنگی کو بنائے رکھنے کی ضرورت ہے اورکہا کہ یہ مذہب ایک دوسرے کا دُکھ ودرد ،خوشی وغم بانٹتا ہے اور آپس میں تفرقہ کرنے کی کوئی گنجائش اس میں نہیں ہے لہٰذا مطالعہ کرنا من حیث القوم ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہم اس کی حقیقت سے آشنا ہوجائیں ۔انہوں نے نوجوان شعراء کے کلام کی داد دی اور طاریق شیرا کے علاوہ حاشر افنان اورکلچرل اکیڈیمی کے ذمہ داروں کو مبارکبا د دی ۔اس موقعہ پر رخسانہ جبین نے ایک منفرد انداز میں نوجوان شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا کل ہیں اور ان کی ہمت افزائی کرنا بزرگوں کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوآموز تخلیق کاروں کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات کو منظر عام پر لانے سے پہلے اساتذہ کا اعتماد حاصل کریں تاکہ ان کا کلام زیادہ سے زیادہ موثر بنے تاہم انہوں نے کئی نوجوان شعراء ریاض ربانی ،ساگر سرفراز ،حاشر افنان ، زاہد ،مصروفہ قادر ،شبینہ آرا ودیگراںکے کلام کو بھی سراہا ۔انہوں نے حاشر افنان کو صاحب کتاب بنے اورطاریق شیرا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر مبار کباد دی ۔اس موقعہ پر جی آر آخون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شعراء کرام کے کلام کی داد دی اور نوجوان شعراء کو ریڈیو کی طرف دعوت دیکر کہا کہ ان کے لئے ریڈیو کے دروازے ہمیشہ کھلا رہیں گے ۔انہوں نے منتظمین پروگرام اور صاحب کتاب کو مبارکباد دی ۔اس موقعہ پر ڈاکٹر فاروق انور نے اپنے زرین خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں اور ان کی ادبی خدمات ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے اورکہا کہ زبان وادب میں تقویت ہی بہتر سماج کی عکاسی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب ہمارے سماج میں ایک طرف نوجوان بے ادبی اور بے حیائی کے شکار ہیںتو دوسری طرف یہ نوجوان ادب کی جانب گامزن ہیں تو یہ مبارکبادی کے مستحق ہیں ۔اس موقعہ پر ناظم نذیر نے کہا کہ شاعر سماج کا آئینہ ہے اوریہ ہمارے سماج میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کی عظمت یہ ہے کہ ان کے کلام سے ہر محفل کی زینت بڑھ جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بزرگ ادباء وشعراء نئی نسل کے شعراء کیلئے پہچان ہے اوربزرگ ان کیلئے مشعل راہ ہیں ۔اس لئے ضروری ہے کہ آپسی ہم آہنگی کو بنائے رکھیں ۔ جنید الاسلام نے بہ حسن خوبی ایک منفرد انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیکر سامعین کومحظوظ کیا اور پروگرام کو شان وشوکت سے اختتام کو پہنچایا ۔جبکہ ان کی ارواہ نے خوبصورت انداز میں ان کا تعاون کیا۔آخر پر طارق شیرا نے تحریک شکرانہ پیش کرکے شاعروں، مہمانوں، میڈیا کے نمائندوں اور سپانسرز کا شکریہ ادا کیا ۔ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان میں اعزازات اور شال تقسیم کئے گئے۔