جموں کشمیر سرکار نے سرکاری اراضی سے قبضہ چھڑانے کیلئے

شہریوں نے تاریخی ’’آپکی زمین آپکی نگرانی‘‘اِقدام کو سراہا

سری نگر//اِی ۔ گورننس آج کی دُنیا میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جوشہریوں کی تمام معلومات تک قابلِ اعتماد رَسائی کے لحاظ سے حکومتی عمل میں شفافیت ، جواب دہی ، کارکردگی اور جامعیت کو بڑھاتی ہے۔جموںوکشمیر حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی قیادت میں جدت طراز ی کو آگے بڑھاتے ہوئے لوگوں کو لینڈریکارڈ سسٹم تک بغیر کسی پریشانی کے آن لائن رَسائی کو بڑھانے کی ایک تاریخی پہل شروع کی ۔جموںوکشمیر کے لوگوں نے اِنتظامیہ کے اِس اقدام کو شہری دوست اقدام کے طور پر سراہا ہے جس سے یقینی طور پر لینڈ ریکارڈ سسٹم میں شفافیت اور جواب دہی میں اِضافہ ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم ’’ آپ کی زمین آپکی نگرانی ‘‘ کا آغاز کیا تاکہ عوامی صارفین کو سی آئی ایس پورٹل http://landrecords.jk.gov.in/پر آن لائن سکین شدہ ڈیٹا کی کاپیاں تلاش اور دیکھنے کی اِجازت دی جاسکے۔یہ اِقدام زمینی معاملات میں ریونیو ملازمین کی مداخلت کو کم کرنے اور لوگوں کو ایک بٹن کے کلک پر اَپنے زمینی ریکارڈ تک رسائی کا حق دینے کے لئے متعارف کیا گیا ہے ۔ اِس طرح مینی پولیشن کو کم کیا جائے گااور ریونیو دفاترکی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتر ی آئے گی۔’یہ ڈیجیٹل اِنڈیا لینڈ ریکارڈ ماڈرنائزیشن پروگرام ( ڈی آئی ایل آر ایم ) کے قومی پروگرام کا نتیجہ ہے جس میں زمینی معاملات میں عام لوگوں کو بہتر خدمات فراہم کی جاتی ہیں‘۔
ڈیجیٹل اِنڈیا لینڈ ریکارڈ ماڈرنائزیشن پروگرام(ڈی آئی ایل آر ایم پی )کا باضابطہ طور پر اپریل 2016ء میں جموںوکشمیر یوٹی میں لینڈ ریکارڈ سسٹم تک آن لائن رَسائی کی بہتربنانے کے لئے شروع کیا گیا تھا جس سے بد عنوان طریقوں کا خاتمہ ہوا تھا اور او ر اِس طرح سب رجسٹرار اور تحصیل دفاتر میں معیاری خدمات کو یقینی بنایا گیا تھا۔لیفٹیننٹ گورنر کی اِنتظامیہ نے اِس بات کو یقینی بنایا کہ اراضی ریکارڈ پروگرام جس سست رفتاری سے عمل کیا جارہا ہے ، اسے عام لوگوں کے فائدے کے لئے تیز اور مکمل کیا جائے۔جموںوکشمیر یوٹی میں پروگرام کی عمل آوری کے حصے کے طور پر 3,895 گرائونڈ کنٹرول پوائنٹس کے قیام کے علاوہ ریونیو ریکارڈ کے 7.70 کروڑ صفحات اور 55,216 موسوی( نقشے) کو سکین کیا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ ویب پر مبنی اِس پہل کے تحت انٹر پرائز جیو اِنفارمیشن سسٹم ( جی آئی ایس ) تیار گیا گیا ہے۔حکومت نے ’’ آپ کی زمین آپ کی نگرانی‘‘ کے حوالے سے اِنفارمیشن ، ایجوکیشن اور کمیونکیشن (آئی اِی سی ) کی سرگرمیوں کے تحت عوام کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے تحصیل اور بلاک سطح کے دفاتر ،نیابت، پٹوار خانوں اور پنچایت گھر میں خصوصی کیمپوں کا اِنعقاد کیا اور جس سے لوگ ایک بٹن کے کلک سے زمینی ریکارڈ تک رَسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ضلع صدر آل جموںوکشمیر پنچایت کانفرنس سکمندر نورانی نے اِس تاریخی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا،’’ہم مرکزی اورجموںوکشمیر یوٹی سطح کے موجودہ انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے ترقی کے تمام شعبوں میں اس طرح کی تکنیکی اختراعات شروع کیں جو لوگوں کی زندگیوں کو آرام دہ اور آسان بناتی ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہاکہ’’آپ کی زمین آپکی نگرانی‘‘ نے عام لوگوں کو اَپنے موبائل پر زمینی ریکارڈ چیک کرنے کا اِختیار دیا ہے اور ہماری زمینی حفاظت کی ہے۔ میں اس تاریخی قدم کے لئے ایل جی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اِسی طرح بژھ پورہ کے جہانگیر کاکہنا ہے کہ ریونیو آفس جانا ایک وقت طلب عمل تھا اور کافی تکلیف ہوتی تھی لیکن اَب میں اَپنے گھر بیٹھ کر زمینی ریکارڈ چیک کرسکتا ہوں۔حکومت نے معلومات کے خلا کو پُر کرنے اور جموںاور سری نگراَضلاع میں ریونیو ریکارڈ تک لوگوں کی آسانی سے رَسائی کو فروغ دینے کے اقدام کے طورپر سہ زبانی زمینی پاس بکس جاری کرنے کا عمل بھی شروع کیا ہے ۔ اَپنی نوعیت کی پہلی زمینی پاس بُک جموںوکشمیر میں زمین کے قانونی مالکان کو اُردو ، انگریزی اور ہندی زبانوں میں جاری کی جارہی ہے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے عوامی معاملات میں شفافیت کو مزید فروغ دینے کے لئے اِصلاحات کے طورپر لوگوںکو ریونیو پاس بک جاری کرنے کا ایک طریقہ کار تیار کیا گیا ہے جس میں ان کی تمام قانونی اراضی کے بارے میں معلومات موجود ہیں اور حکومت نے اِس عمل کی تکمیل کے لئے 15؍ اگست 2022ء کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ٹینگہ پورہ سری نگر کے شوکت احمد راتھر نے حکومت کے اِس اقدام کی تعریف کی ہے ۔اُنہوں نے کہا ،’’ یہ واقعی ایک اچھا قدم ہے ، سب کو فائدہ ہوگا۔ پہلے ریونیو حاصل کرنے میں مہینوں لگتے تھے ۔ لینڈ پاس بک سے اَب سب کچھ عوام کے پاس ہے ۔ ہمیں ریونیو دفاتر کا دورہ کرنے کے بوجھل عمل اور ڈرائو نے خواب سے نجات ملی ہے۔‘‘ٹینگہ پورہ کے خورشید احمد ریشی کے لئے یہ اقدام ان لوگوں کو بے نقاب کرے گا جنہوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا اور سرکاری زمین پر بنیادی ڈھانچہ بنایاہے۔