شجر کاری کے پودوں کو اْگانے کا کام ٹھیکداروں کو دینا وقت ضائع کے بغیر کچھ نہیں

ہر سال جنگلات، سکولوں ، ہسپتالوں اور دیگر جگہوں پر لاکھوں پودے لگانے کا فائدہ زمینی سطح پر صفر

سرینگر//شجر کاری مہم کیلئے ٹینڈروں کے ذریعے ٹھیکیداروں کو یہ کام سونپا جاتا ہے جس کی وجہ سے شجر کاری مہم کے وہ نتائج سامنے نہیں آتے جو مطلوب ہوتے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ جنگلات کے افسران نے بتایا کہ شجر کاری کیلئے جو پودے استعمال میں لائے جاتے ہیں وہ غیر تجربہ کاری سے پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک ہزار میں سے صرف پچاس پودے ہی لگ کر درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے ہر برس شجر کاری مہم کے تحت لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں تاہم ان میں سے کچھ سو ہی بڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایک تو ماحولیات کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے سرکاری خزانے کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔وی او آئی کے نمائندے امان ملک کے مطابق محکمہ جنگلات کی جانب سے ہر برس شجر کاری مہم چلائی جاتی ہے اس کیلئے محکمہ جنگلات پہلے ان پودوں کو اپنی نرسریوں میں اْگاکر اس مہم کو چلاتے تھے اور بہتر ڈھنگ اور تیکنیک سے یہ کام انجام دیا جاتا تھا تاہم گزشتہ دو برسوں سے یہ کام اب ٹینڈروں کے ذریعے ٹھیکیداروں کو دیا جاتا ہے۔ ٹھیکدار جو پودے فراہم کرتے ہیں وہ ناقص اور غیر تکنیکی ذریعہ سے اْگائے جانے کی وجہ سے شجر کاری مہم کے بعد سوکھ جاتے ہیں اور نتیجہ شجر کاری پر کروڑروں روپے صرف کرنے کے باجود بھی وہ نتائج سامنے نہیں آتے جس کیلئے یہ مہم چلائی جاتی ہے۔ شجر کاری مہم کے دوران ، جنگلات، سکولوں ، ہسپتالوں ، پارکوں ، باغات اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے احاطے میں ہر برس لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے صرف کچھ ہی سو لگ کر درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں جبکہ باقی ماندہ سوکھ جاتے ہیں۔ لوگوںنے اس ضمن میں کہا ہے کہ جس طرح سے پہلے محکمہ جنگلات اپنی نرسریوں میں یہ پودے اْگاتے تھے پھر سے اسی محکمہ کو یہ کام سونپا جائے۔ کیوں کہ ٹھیکدار صرف اپنی بلیں نکالنے کیلئے جو کام انجام دیتے ہیں وہ بے سود اور بے نتیجہ ہوتے ہیں جس سے سرکاری خزانہ کو نقصان بھی پہنچتا ہے اور وہ نتائج سامنے نہیں آتے جو شجر کاری سے نکلنے چاہئے۔