شام کاسایہ پڑنے کیساتھ ہی اہم شاہراہوں اورسڑکوں پر ٹرانسپورٹ سروس دستیاب نہیں

کیانجی ٹرانسپورٹر جواب دہ نہیں،روٹ پرمٹ کی خلاف ورزی

سری نگر//اکثر یہ سننے کوملتا ہے کہ شام کاسایہ پڑنے کیساتھ ہی اہم شاہراہوں اورسڑکوں پر ٹرانسپورٹ سروس دستیاب نہیں رہتی ہے ،جسکے نتیجے میں ملازمت ،کاروبار ،مزدوری یاکسی دوسرے کام مکمل کرنے کے بعدگھر پہنچنے کیلئے لوگوںکوسخت مشکلات کاسامنا کرناپڑتا ہے ،اوربعض اوقات ایسے لوگوں کوکافی کرایہ دیکر نجی چھوٹی گاڑیاں لینی پڑتی ہیں ۔مثال کے طور کسی دوسرے ضلع میں تعینات کوئی سرکاری ملازم جب شام کے وقت واپس سری نگر پہنچتا ہے تو اُس کوگھر پہنچنے کیلئے کوئی میٹادار نہیں ملتا،اورایسے ملازمین یادوسرے لوگ آٹو رکھشا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں ،اورآٹو ڈرائیور بھی ان کی مجبوری کاخوب فائدہ اُٹھاکر یہ کہتے ہوئے اضافی کرایہ مانگتے ہیں کہ واپسی پراُنھیں کوئی سواری ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں ۔رُوٹ پرمٹ جاری کرتے وقت متعلقہ حکام کویہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ مختلف روٹوں پر چلنے والی مسافر بسیں اورشہر سری نگراورقصبہ جات کے درمیا ن چلنے والی چھوٹی گاڑیاں بشمول میٹا ڈار وغیرہ شام کے وقت ایک خاص وقت تک دستیاب رہیں ،تاکہ دیر سے اپنے گھروں کولوٹنے والے افراد کسی مشکل میں نہ پھنسیں ۔ٹریٖفک قوانین کاجہاں تک تعلق ہے تواس میں صرف خلاف ورزیوںکاہی ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں عام مسافروں کے حقوق یعنی اُنھیں بہتر وآسان ٹرانسپورٹ سروس کی فراہمی بھی شامل ہے ،لیکن دیکھنے میں آیاہے کہ مسافروں کے حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی کارروائی نہیںکی جاتی ہے،پھر چاہئے وہ اوورلوڈنگ ہویاکہ مجبوری کے وقت اضافی کرایے کی وصولی ۔جس میں آٹو ڈرائیور اورچھوٹی گاڑیوں بشمول تویراوغیرہ چلانے والے بھی شامل ہیں ۔جب تک حقوق اورذمہ داریوںمیں توازن نہیں ہوگا،تب تک جوابدہی کافقدان رہے گا،اورنظر بھی آئے گا۔ہمارے یہاں شاید یہ روایت رہی ہے کہ سماج کاکوئی بھی طبقہ ہو ،وہ حقوقRights کی بات کرتاہے لیکن جب ذمہ داریوں یعنیDutiesکی بات آجاتی ہے تواس معاملے سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔یہ صرف نجی ٹرانسپورٹروں کاہی معاملہ ہے ،بلکہ ہم یہ غیرذمہ داری ،بیشتر شعبوں اورطبقوں میں بھی دیکھتے ہیں۔یہ صرف ٹریفک پولیس کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پرعمل درآمد کویقینی بنائے ،اورخلاف ورزیوںکی روکتھام کیلئے کارروائی کرے ،بلکہ سب سے پہلے یہ محکمہ ٹریفک کے افسروں اورانسپکٹروںکی ذمہ داری ہے کہ وہ طے شدہ قوانین اورقواعد وضوابط پرعمل کرانے میں دلچسپی لیں ۔کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ جب کسی مسافر گاڑی کیلئے روٹ پرمٹ اجراء کیاجاتاہے تو متعلقہ ٹرانسپورٹر سے کن باتوںیارولز کااقرار لیاجاتاہے ۔روٹ پرمٹ کرتے وقت اس بات کاخیال رکھنا ضروری ہے کہ متعلقہ ٹرانسپورٹر مسافروں کی سہولیت کاخیال رکھتاہے کہ نہیں ،اورآیا وہ مسافروںکیساتھ کوئی ناانصافی تونہیں کرتا ہے ،یااضافی کرایہ تونہیں لیتاہے ۔اب چلیں ،کسی شخص کوشام دیر گئے ،کسی بازار یادورعلاقے سے گھر پہنچنا ہوتووہ میٹادار یاکوئی دوسری گاڑی دستیاب نہ ہونے پر آٹو رکھشالینے پر مجبور ہوجاتاہے ۔اکژر دیکھنے میں آتاہے کہ آٹو ڈرائیور اس شخص کی مجبوری کافائدہ اُٹھانے کیلئے اضافی کرایہ طلب کرتا ہے ،مثال کے طور پر دن کے وقت لالچوک سے راجباغ جاناہوتوآٹو ڈرائیور مسافر سے 70یا80روپے کاکرایہ لیتاہے ،اوراگر شام یادیر شام کاوقت ہوتوآٹو ڈرائیور مسافر سے100یا120روپے طلب کرتاہے ،اوراگر مسافر سوال کرے کہ اتنا کرایہ کیوں ،تومتعلقہ ڈرائیور کاجواب یہ ہوتاہے کہ واپسی پر کوئی سوار ی ملنے کی کوئی ضمانت نہیں ۔اب ٹریفک حکام اسبات کاجواب دے سکتے ہیں کہ کیا آٹو ڈرائیور کی بات صحیح ہے یاکہ اس طرح کاطریقہ کار مسافروں کیساتھ زیادتی کے زمرے میں آتا ہے ۔یہاں یہ بات پھریادکرائی جانی لازمی ہے کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کویقینی بناناصرف ٹریفک پولیس کی ذمہ داری نہیں ،بلکہ اس ذمہ داری کاکچھ بوجھ محکمہ ٹریفک کوبھی اُٹھانا چاہئے ۔ساتھ ہی یہ بات بھی لازمی ہے کہ عام لوگ بھی اپنی ذمہ داریوںکاادراک کریں ،اورکسی بھی ایسے عمل کی حوصلہ افزائی نہ کریں ،جس سے کہ نجی ٹرانسپورٹرمن مانیوں کے عادی ہوجائیں ۔مثال کے طورکسی مسافر کوپرانے بتہ مالو اڈے سے ٹینگ پورہ بائی پاس تک جاناہو ،تو یہاں سے بڈگام وغیرہ علاقوںکی جانب روانہ ہونے والے میٹاڈار کے ڈرائیور تب تک نکلنے کانام نہیں لیتے ہیں ،جب تک سیٹیں پوری طرح سے نہ بھرجائیں اورکچھ مسافر گاڑی کے اندر کھڑے قطار میں نہ ہوں ۔اس کے باوجود جب میٹا ڈارچلنا شروع ہوتاہے توکچھ دور ہی راستے میں اورمسافر سوار ہوجاتے ہیں ،جب کہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس گاڑی میں پہلے سے ہی اوور لوڈنگ ہے ۔مجموعی طورپر قوانین کالحاظ کرنااورحقوق وذمہ داریوںمیں توازن پیداکرنایا رکھنا سبھی شہریوںکی ذمہ داری ہے ۔