سری نگر//سیکرٹری نیشنل فائونڈیشن برائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ( این ایف سی ایچ )مرکزی وزارتِ داخلہ اَمور منوج پنت نے آج صوبہ کشمیر میں ملی ٹینسی کا شکار ہونے والے بچوں کی بحالی کے پروگرام کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کشمیر ، اضلاع کے اے ڈی سیز، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر اَفسران روی شنکر ترپاٹھی ، ڈی ڈی او ، این ایف سی ایچ اور دیگر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ این ایف سی ایچ سے جموںوکشمیر کے بیس اَضلاع میں 6,702بچوں کی مدد کی گئی ہے اور اُنہیں 50.39 کروڑ روپے کی اِمداد فراہم کی گئی ہے ۔یہ بھی جانکاری دی گئی کہ 2021-22ء کے دوران 1,071 متاثرین کے حق میں 1.94کروڑ روپے جاری کئے گئے جبکہ 2022-23ء میں 392متاثرین کو 63.12 لاکھ روپے جاری کئے گئے۔اِس موقعہ پر سیکرٹری نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اَپنے متعلقہ اَضلاع میں رہ جانے والے بچوں کا پتہ لگائیں تاکہ انہیں بحالی کے لئے مالی مدد فراہم کی جائے۔منوج پنت نے کہا کہ این ایف سی ایچ کو جموںوکشمیر سے بڑی تعداد میں اہل بچوں کے تازہ کیس موصول نہیں ہوئے ہیں اور متعلقہ اَفسران سے کہا ہے کہ وہ اہل بچوں کا پتہ لگانے کے عمل کو تیز کریں اور انہیں پروجیکٹ کے تحت رجسٹر کریں۔اُنہوں نے کہا کہ ایک بار رجسٹر ہونے کے بعد مطلوبہ معیار پر پورا اُترنے والے متاثرہ بچے کو 25برس کی عمر تک اِمداد دی جاتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ توجہ تعلیم او راَپنے مقاصد کے حصول میں ان کی مدد کرنا ہے۔سیکرٹری این ایف سی ایچ نے مزید کہا کہ ان بچوں کو ملک کے مختلف شہروں بشمول دہلی ، بنگلور ، احمد آباد ، ممبئی وغیرہ کا دورہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا جارہا ہے۔










