سکینہ اِیتو نے ڈِک کے مارگ کولگام میں ضلعی سطح کے کسانوں کے بیداری پروگرام کی صدارت کی

سکینہ اِیتو نے ڈِک کے مارگ کولگام میں ضلعی سطح کے کسانوں کے بیداری پروگرام کی صدارت کی

کولگام//وزیربرائے تعلیم، صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو نے ڈِی ایچ پورہ کے ڈِی مارگ میں منعقدہ ضلعی سطح کے کسانوں کے بیداری پروگرام کی صدارت کی جس کا انعقاد محکمہ باغبانی کولگام نے مرکزی معاونت والی سکیم کے تحت کیا تھا۔ اِس پروگرام کا مقصد باغبانوں اور کسانوں کو جدید باغبانی طریقوں، سائنسی مداخلتوں اور پیداوار و آمدنی میں اضافے کے لئے حکومت کی مختلف سکیموں سے آگاہ کرنا تھا۔اِس موقعہ پر وزیرموصوفہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باغبانی جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اُنہوں نے کسانوں کو جدید تکنیکی رہنمائی اور مسلسل اِدارہ جاتی تعاون فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ پیداوار میں اِضافہ ہو اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے۔اُنہوں نے محکمہ باغبانی اور متعلقہ محکموں کی جانب سے لگائے گئے نمائشی سٹالوں کا بھی معائینہ کیا۔ ان سٹالوں پر محکمانہ سکیمیں، جدید ٹیکنالوجی اور کسانوں کو دستیاب سہولیات کی نمائش کی گئی جبکہ تکنیکی ماہرین نے موقعہ پر ہی کسانوں کی رہنمائی کی اور ان کے سوالات کے جوابات دئیے۔شرکاء کو محکمہ باغبانی کی فلاحی سکیموں کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ تکنیکی سیشن کے دوران سکاسٹ کشمیر کے ماہرین نے اپنی تحقیقی اور توسیعی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور پھلوں کی فصلوں میں مربوط کیڑوں کے تدارک پر ایک معلوماتی لیکچر دیتے ہوئے ماحول دوست اوردیرپا طریقوں کی اہمیت اُجاگر کی۔محکمہ باغبانی نے مقامی اور غیر ملکی اقسام کے پھل، معیاری پودے اور مختلف پھلوں کی اقسام کی نمائش بھی کی جس سے ضلع کولگام کی باغبانی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا گیا۔کسانوں کی تکنیکی رہنمائی، شکایات کے ازالے اور محکمانہ سکیموں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لئے ایک ہارٹی کلچر ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا گیا۔اِس موقعہ پر گزشتہ تین برسوں کے دوران ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) کے تحت حاصل کی گئی کامیابیوں کا دستاویزی خاکہ ’’ایک سرسبز، خوشحال کولگام کی تعمیر‘‘ جاری کیا گیا۔وزیر موصوفہ نے عوامی مسائل اور مطالبات کو بھی بغور سُنا اور اور ان کے مناسب ازالے کی یقین دہانی کی۔بعد میں سکینہ اِیتو نے ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ آفس کمپلیکس اور گورنمنٹ مڈل سکول کونسربل و باباپورہ میں اضافی کلاس رو م کی عمارتوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ دورے کے دوران اُنہوں نے احمد آباد ترنگ زڈو میں ریپڈ سینڈ فلٹریشن (آر ایس ایف) پلانٹ کا بھی اِفتتاح کیا۔