لیفٹیننٹ گورنر نے نیشنل بُک ٹرسٹ اور منتظمین کو ان کے شاندار کام پر مُبارک باد دِی
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہانے سری نگر میں منعقدہ ’چنار بُک فیسٹول ‘ کے تیسرے ایڈیشن میں شرکت کی۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے نیشنل بُک ٹرسٹ اورفیسٹول کے منتظمین کو ان کے قابلِ ستائش کام پر مُبارک باد پیش کی۔اُنہوںنے کہا،’’یہ فیسٹول صرف ایک تقریب نہیں بلکہ قارئین، ادیبوں اور مفکرین کی ایک متحرک کمیونٹی بنانے کی تحریک ہے۔ ہمارا مقصد جموں و کشمیر کو علم، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کا قومی مرکز بنانا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ بک فیسٹول نوجوانوں کو روزانہ مطالعہ کرنے، معدوم ہوتی زبانوں کے تحفظ اور ادب کے ذریعے تنوع کی قدر و منزلت کو فروغ دینے کی ترغیب دے گا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کتابیں زندہ گفتگو کی طرح ہوتی ہے جو انسان کو گہرائی سے سوچنے، سوال پوچھنے ، اَپنے نظریات کا جائزہ لینے اور مسلسل آگے بڑھنے کی تحریک دیتی ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’تحریر کی طاقت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جب اس کے ساتھ مضبوط تخیل شامل ہو جائے تو یہ ایک دیرپا قوت بن جاتی ہے۔ ایک متحرک’کتاب میلہ‘ ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں ادب ہر فرد کے لئے قابلِ رسائی، متاثر کن اور بامعنی بن جاتا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بہت ہی قلیل عرصے میں’ چنار بک فیسٹول ‘پورے جموں کشمیر میں ایک متحرک فکری تحریک میں تبدیل ہو کر خیالات کا ایک منفرد جشن بن گیا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’میرے نزدیک ادیب اور مفکر روشن چراغوں اور کھلے ہوئے گلابوں کی مانند ہیں۔ وہ کئی حوالوں سے کشمیر کے عظیم چنار درخت کی عکاسی کرتے ہیں، جو صبر، خوبصورتی اور اِستقامت کی ایک زندہ علامت ہے۔ ادیب اور ان کی کتابیں بھی اسی دیرپاجذبے کی نمائندگی کرتی ہیں جو صدیوں سے اِنسانی تہذیب کی رہنمائی کرتا آیا ہے۔ جموں و کشمیر کو تعلیم، اَدب اور نوجوانوں کو بااِختیار بنانے کے ایک اہم مرکز کے طور پر بحال کرنا ہم سب کی مشترکہ ذِمہ داری ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ’ چنار بک فیسٹول ‘ اب قومی سطح پر خیالات، مباحثوں اور علم کے تبادلے کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کی شناخت اَب صرف کتابوں کی نمائش یا رونمائی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ نئے خیالات پیدا کرنے، مکالمے کی حوصلہ افزائی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں منعقد ہونے والی ورکشاپوں، پینل مباحثوں اور ادبی نشستوں نے جموں کشمیر کی بھرپور ادبی روایت کو نئی توانائی بخشی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’اس فیسٹول کے دوران ہم نے اپنے ثقافتی ورثے کے انمول خزانے، شاردا سکرپٹ کی بحالی کی ایک متاثر کن کوشش کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔ اسی طرح تامل ۔کشمیری مکالموں جیسے اقدامات کے ذریعے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘کے جذبے کو عملی شکل اِختیار کرتے ہوئے دیکھا گیا اور آج یہ فیسٹول مختلف خطوں، زبانوں اور نسلوں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل بن گیا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ’بُک فیسٹول‘ کی کامیابی کا معیار صرف کتابوں کی فروخت نہیں ہونا چاہیے۔اُنہوں نے کہا، ’’میرے نزدیک کسی بھی ’بُک فیسٹول ‘کی اصل کامیابی ان خیالات اور مکالموں میںمضمر ہوتی ہے ۔ اگر اس میلے میں شروع ہونے والی کوئی بحث کسی کالج یا یونیورسٹی تک پہنچ جائے، تو ہمارا مقصد کامیاب ہے۔ اگر یہاں ہونے والا کوئی مکالمہ اور میلے کے دوران ابھرنے والے خیالات مستقبل کے تعاون کی بنیاد بن جائیں، تو میں میلے اور اس کے مقاصد کو کامیاب تصور کروں گا اوراگر یہاں کسی نوجوان کو ایسی کتاب مل جائے جو اس کی زندگی کا رُخ بدل دے، تو یہی’ چنار بُک فیسٹول ‘ کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اَپنی نصابی کتابوں کے علاوہ ہر ماہ کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں جبکہ نوجوان قلم کاروں سے اپیل کی کہ وہ روزانہ کم از کم ایک صفحہ لکھنے کا عزم کریں۔اُنہوں نے کہا، ’’چنار بک فیسٹول کے ذریعے ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے بچوں کو اپنی شناخت کی جڑیں بھی حاصل ہوں اور مستقبل کی پرواز کے لئے پر بھی۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنے جہاں مقامی لائبریریاں اور چھوٹے قصبوں کے بک کلبز بھی اس میلے کی روح سے جڑ جائیں، تاکہ علم کی یہ تقریب سارا سال عوام تک پہنچتی رہے اور ادبی، موسیقی اور بصری فنون کے درمیان تبادلوں کو فروغ دے، جہاں الفاظ آواز بن جائیں، شاعری رنگ اختیار کرے اور کہانیاں ہمارا مشترکہ تجربہ بن جائیں۔‘‘بعد میں لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا نے مختلف کتابی سٹالوں کا دورہ کیا، نمائش کنندگان سے بات چیت کی اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی متعدد کتابوں کی رسم رونمائی بھی انجام دی۔ اُنہوں نے منتظمین کو جموں میں بھی اسی طرز کا ’بُک فیسٹول ‘منعقد کرنے کی ہدایت دی۔
اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری اَتل ڈولو،چیئرمیں نیشنل بُک ٹرسٹ پروفیسر ملند سدھاکر مراٹھے، کمشنر سیکرٹری سکول و اعلیٰ تعلیم رام نواس شرما،ڈائریکٹر نیشنل بُک ٹرسٹ یووراج ملک،چیف کنوینئر چنار بک فیسٹول ڈاکٹر امیت وانچو،ڈائریکٹر نیشنل کونسل فار پروموشن آف اُردولنگویج ڈاکٹر محمد شمس اِقبال، ممتاز ادبی شخصیات، کتاب دوست، نوجوان اور طالب علموں کی بڑی تعداد موجود تھی۔تقریب میں چیئرمین جموں و کشمیر وقف بورڈ ڈاکٹر سیّد درخشاں اندرابی، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی، پرنسپل سیکرٹری ثقافت برج موہن شرما، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اَکشے لابرو، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی، مختلف تعلیمی اِداروں کے سربراہان اور دیگر سینئر اَفسران نے بھی شرکت کی۔










