Rajnath Singh

دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس محض بیان نہیں، عملی پالیسی ہے

آپریشن سندور میں دنیا نے دیکھا کہ دہشت گردی کا جواب ان کے ٹھکانوں میں جا کر دیا// وزیر دفاع

سرینگر// مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس بھارت کے لیے محض ایک نعرہ یا بیان نہیں بلکہ ایک واضح اور عملی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف کارروائی صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ ضرورت پڑنے پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں میں داخل ہو کر بھی کارروائی کرے گا، جس کی مثال آپریشن سندور کے دوران پوری دنیا نے دیکھی۔یو این ایس کے مطابقہفتہ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نے دہشت گردی کے معاملے پر اپنا مؤقف پوری عالمی برادری کے سامنے دوٹوک انداز میں رکھا ہے۔ انہوں نے کہاہمارے لیے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک لائن آف ایکشن ہے۔ ہم دہشت گردی کا جواب صرف اپنی دہلیز پر نہیں دیں گے بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کے گھروں میں داخل ہو کر کارروائی کریں گے۔ پوری دنیا نے آپریشن سندور کے دوران اس حکمت عملی کا عملی مظاہرہ دیکھا ہے۔وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں دفاعی شعبے میں بھارت کی خود کفالت اور تیز رفتار ترقی کو حکومت کی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اب صرف اپنی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک قابل اعتماد دفاعی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرِ ہند سے لے کر انڈو پیسیفک خطے تک بھارت کا تزویراتی کردار مسلسل مضبوط ہو رہا ہے اور دنیا بھارت کو ایک ذمہ دار سکیورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ آج بھارت میں تیار کردہ دفاعی ساز و سامان تقریباً 100 ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے جبکہ ملک کی سالانہ دفاعی پیداوار بڑھ کر تقریباً 1.78 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2029 تک بھارت کی سالانہ دفاعی پیداوار 3 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔یو این ایس کے مطابق نہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حقیقی دفاعی خودمختاری اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ ہتھیاروں، گولہ بارود، میزائلوں، ریڈار، ڈرون، نیویگیشن سسٹمز اور دیگر اہم دفاعی سازوسامان کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار نہ کرے۔ ان کے مطابق حکومت گزشتہ کئی برسوں سے دفاعی صنعت میں خود انحصاری کے مقصد کے تحت مسلسل اصلاحات نافذ کر رہی ہے تاکہ بھارت ہر شعبے میں دفاعی اعتبار سے مضبوط اور خود کفیل بن سکے۔وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا اقدام دفاعی صنعتی شعبے میں آتم نربھر بھارت کے وڑن کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ملک کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد نہیں کیا گیا، جبکہ موجودہ حکومت کو بھارتی صنعت، سائنس دانوں اور نوجوان انجینئروں کی قابلیت پر مکمل یقین ہے اور اسی اعتماد کے نتیجے میں دفاعی شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندورکو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ کی ایک کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں آکاش تیر آکاش میزائل سسٹم، براہموس میزائل اور دیگر جدید دفاعی آلات کا مؤثر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن نے ثابت کر دیا کہ بھارتی مسلح افواج نہ صرف بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں سے پوری طرح واقف ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کو انتہائی اعتماد اور مہارت کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران حکومت نے دفاعی شعبے میں مضبوط بنیادیں قائم کی ہیں، جن کے باعث بھارت نہ صرف اپنی فوجی ضروریات بڑی حد تک خود پوری کر رہا ہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں بھی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔وزیر دفاع نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2013-14میں بھارت کی دفاعی برآمدات صرف 686 کروڑ روپے تھیں، جبکہ مالی سال 2025-26میں یہ بڑھ کر 38 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں، جو دفاعی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے شعبے میں ملک کی غیر معمولی ترقی کا مظہر ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت دفاعی شعبے میں خود کفالت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور برآمدات کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ بھارت مستقبل میں عالمی دفاعی صنعت میں ایک نمایاں اور مضبوط مقام حاصل کر سکے۔