سری نگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن (جے کے بی او ایس ای) کی کارکردگی اور کام کاج کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعلیم اور چیئرمین جے کے بی او ایس ای شانت منو، ناظم سکولی تعلیم جموں ، ناظم سکولی تعلیم کشمیر، سپیشل سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم، سیکرٹری جے کے بی او ایس اِی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے جے کے بی او ایس اِی کے اہم عملی پہلوؤں جیسے اِمتحانی طریقۂ کار، نصاب کی عمل آوری اور دیگر آئی ٹی مداخلتوں کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے بورڈ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور اِنتظامی نظام کو بہتر کرنے پر زور دیا تاکہ بورڈ کے احسن طریقے سے تعلیمی سرگرمیاں اور دیگر متعلقہ امور کو یقینی بنایا جاسکے۔اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ اِس ماہ کے آخر تک دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان کریں تاکہ طالب علم بغیر کسی تعلیمی نقصان کے اپنی اگلی کلاسوںمیں شامل ہو سکیں۔وزیر موصوفہ نے دونوں ڈائریکٹروں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں جامع ترقیاتی تعلیمی شعبے کے لئے جے کے بی او ایس ای کے ساتھ تعاون کریں۔اُنہوں نے جموں و کشمیر میں مضبوط اور طلبأ دوست تعلیمی فریم ورک کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے پورے خطے میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے شراکت داروں کی مسلسل شمولیت اور فعال اقدامات پر زور دیا۔اُنہوں نے بورڈکے دیگر اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے جن میں دیویانگ اور خصوصی ضروریات والے بچوں کے لئے مساوی اور جامع تعلیمی سہولیت شامل ہیں، ڈائریکٹروں اور بورڈ حکام دونوں پر زور دیا کہ وہ ان خصوصی ضرورت والے طلبأ کو فراہم کئے جانے والے فوائد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کریں جیسے تعلیمی ماہرین میں تشخیص ، اِمتحانی فیس میں مستقل استثنیٰ یا مستقبل طورپر سی ڈبلیو ایس کی فیس میں 4فیصد کی نرمی ، دسویں سے بارہویں جماعت کے بورڈ اِمتحانات اور دیگر میں پاس فیصد میں 5 فیصد کی چھوٹ شامل ہیں۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ باقاعدگی سے بیداری کیمپوں کا اِنعقاد کریں جس میں پی آر آئیز اور ماس میڈیا جیسے دیگر ذرائع شامل ہوں تاکہ ہدف والے گروپ میں زیادہ سے زیادہ بیداری کی جاسکے۔دورانِ میٹنگ سیکرٹری بی او ایس اِی نے بورڈ کے کام کاج کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے وزیر تعلیم کو طلبأ کی سہولیت کے لئے بورڈ کی طرف سے شروع کردہ مختلف آئی ٹی مداخلتوں کے بارے میں بھی جانکاری دی۔










