جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام میں تیزی لانے کی ہدایت
سری نگر// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے سول سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک میٹنگ میں بڈگام حلقے میں تعلیم اور صحت شعبوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میںممبر اسمبلی بڈگام آغا سیّد منتظر مہدی، محکمہ سکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور سماجی بہبود کے سپیشل سیکرٹریز، ڈائریکٹر سکولی تعلیم کشمیر، ڈائریکر ہیلتھ سروسز کشمیر، ڈائریکر کالجز، محکمہ سکولی تعلیم، ڈائریکٹر پلاننگ/ڈائریکٹر فائنانس سکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور سماجی بہبود محکمہ جات ، تمام متعلقہ محکموں کے ایڈیشنل سیکرٹریز، سی ایم او سری نگر، سی ایم او بڈگام، سی اِی او بڈگام اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے مختلف سکیموں کے تحت حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور حلقے میں جاری بنیادی ڈھانچے کی ترقیاتی سرگرمیوں کی صورتحال کا جائزہ کیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ قریبی تال میل برقرار رکھیں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔اُنہوں نے گورنمنٹ ڈِگری کالج سو یۂ بُگ کے حوالے سے جاری تعمیراتی کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت دی تاکہ منصوبہ بروقت مکمل ہو کر عوام کے اِستعمال کے لئے وقف کیا جا سکے۔ اُنہوں نے تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر عوامی مفاد کے لئے وقت پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے توجہ دی گئی۔وزیر موصوفہ نے بڈگام حلقے کے دیگر ترقیاتی پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ عوامی نمائندے کی جانب سے اُٹھائے گئے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور ان کے فوری ازالے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اُنہوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سیٹلائٹ کیمپس کو مستقل کیمپس میں فعال بنانے کے لئے تمام رُکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی زور دیا۔وزیر صحت سکینہ اِیتو نے صحت شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے حلقے میں طبی اِداروں کی کارکردگی، طبی عملے، اَدویات، تشخیصی سہولیات اور مریضوں کی نگہداشت سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کیں۔ اُنہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ موجودہ فرق کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ صحت اِدارے عوامی ضروریات پوری کرنے کے لئے مکمل طور پر سہولیات سے آراستہ ہوں۔اُنہوں نے محکمہ صحت کو شہروں اور قصبوں کے صحت اِداروں میں عملے کو معقول بنانے کی ہدایت دی تاکہ دیہی اور دیہی اور دُور دراز علاقوں میں موجود عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔










