سکاسٹ جموں اور کے وِی آئی بی کا جموں وکشمیر کے بے روزگار نوجوانوں میں ایگری اَنٹرپرائزز کے قیام پر تبادلہ خیال

جموں//آج سکاسٹ جموں میں ایک اِنٹرفیس اِنٹرایکٹیو سیشن کا اِنعقاد ہوا ۔ اِنٹرایکٹیو سیشن کی صدارت وائس چانسلر سکاسٹ جموں ڈاکٹر جے پی شرما نے کی اور ان کے ساتھ وائس چیئرپرسن کے وِی آئی بی جے اینڈ کے ڈاکٹر حنا شفیع بھی تھیں۔اِس موقعہ پر دیگر اَفسران میں سیکرٹری / چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے وِی آئی بی جے ایند کے ، ڈائریکٹر ایکسٹینشن سکاسٹ جموں اور کے وِی آئی بی اور یونیورسٹی کے اَفسران موجود تھے۔میٹنگ میں کنورجنس پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ مل جُل کر کام کیا جاسکے۔ سکاسٹ جموں ہنری مندی کے پروگراموں میں سہولیت فراہم کرے گا اور کے وِی آئی بی ہنر مند بے روزگار نوجوانوں کو اَپنے ایگری اَنٹراپرئزز قائم کرنے میں مدد کرے گا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔بتایا گیا کہ سکیمیں ماحول دوست ہوں گی اور زرعی صنعت کاروں کی معاشی بقاء پر زیادہ اثر ڈالیں گی۔وائس چیئرپرسن نے وائس چانسلر کے ہمراہ مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا ۔اینٹو مولوجی ، مشروم کاشت ، اینمل ہسبنڈری محکمہ ، محکمہ ورمی کمپوسٹ ،کو یہ سمجھنے کے لئے دیا گیا کہ اَگر مذکورہ سکیم کے تحت ہنرمندی کی ترقی کی جاتی ہے ، تویہ زرعی اَنٹرپرینیور شپ کے تحت روزگار کا ایک بڑا مرکز بنائے گا۔ دورانِ میٹنگ صوبہ جموں میں قائم کئے جانے والے ایس ایف یو آر ٹی آئی کلسٹروں پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور میٹنگ میں اِس بات کا اعلادہ کیا گیا کہ سکاسٹ جموں ،جموں کے مگس بانی کلسٹروں کے لئے تکنیکی ایجنسی ہونے کی وجہ سے پروجیکٹوں کی تکمیل کو مقررہ مدت میں یقینی بنایا جائے گا۔ وائس چانسلر نے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ اَپنے کام اور مہارت میں اِضافہ کریں تاکہ منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوں۔وائس چیئرپرسن کے وِی آئی بی جموںوکشمیر نے شراکت داروں کو متحد ہو کر کام کرنے کی تاکید کی تاکہ آنے والے وقت میں جموں میں مگس پالن کلسٹرس کے قیام کے لئے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ایس ایف یو آر ٹی آئی سکیم کے تحت مگس پالن کلسٹرس کے قیام سے شہد کی مصنوعات کی قدر میں اِضافہ کر کے شہد کی مکھیوں کے کاشت کاروں کی آمدنی پر بہت اثر پڑے گا اورمخصوص ضلع میں روزگار بھی پیدا ہوگا۔