سٹیٹ ٹیکسز ڈیپارٹمنٹ کا تاجروں اور ہوٹل والوں کے ساتھ اِستفساری سیشن کا اِنعقاد

سری نگر//کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رشمی سنگھ نے ’’ آزادی کا اَمرت مہا اُتسو‘‘ کے ایک حصے کے طور پر آج جنوبی کشمیر کے تاجروں ، صنعت کاروں او رہوٹل والوں کے لئے ایک جی ایس ٹی اِستفساری سیشن کا اِنعقاد کیا۔ڈاکٹر رشمی سنگھ نے شرکأ کی طرف سے اُٹھائے گئے مختلف مسائل کا جواب دیا اور یقین دِلایا کہ تمام حقیقی مسائل کا خیال رکھا جائے گا ۔اُنہوں نے اننت ناگ ، کولگام ، پلوامہ اور شوپیاں اَضلاع کے ایس ٹی اوز کو ایک رجسٹریشن مہم چلانے کی ہدایت دی۔کمشنر نے متعلقہ اَفراد کو آمدنی بڑھانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے اور جی ایس ٹی ایکٹ کی تمام دفعات کے مناسب عمل آوری کو یقینی بنانے کی تلقین کی۔ڈپٹی کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ریکوری شکیل مقبول نے شرکأ کو ٹیکس چوری اور حکومت کو ریونیو کے نقصان کا باعث بننے والی بد عنوانیوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔اُنہوں نے ٹیکس کی ذمہ داری طبے کرنے کے لئے ناہل ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے اِستعمال او رہوٹلوں اور ٹریول ایجنٹوں کی جانب سے سپلائی کے قوانی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئی جی ایس ٹی واجبات کے اعلان کے مسائل کو نشان زد کیا جس سے حکومت جموںوکشمیر کو ریونیو کا نقصان ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے شرکأ کو جی ایس ٹی سے متعلق حالیہ تبدیلیوں اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر سینٹرل ڈاکر پرویز رینہ نے شرکأ کو مقامی صنعتوں کے فروغ کے لئے حکومت کی جانب سے دستیاب مختلف ٹیکس ریمبر سمنٹ سکیموں سے متعلق فوائد اور مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔اِس سیشن میں ہوٹلیئر ایسو سی ایشن پہلگام ، ٹریڈرس فیڈریشن جنوبی کشمیر ، جنوبی کشمیر کے ٹیکس دہندگان ، کنٹریکٹروں ، مینو فیکچررس ایسو سی ایشن آف جنوبی کشمیر اور دیگر شراکت داروں کی فعال شرکت دیکھنے میں آئی جنہوں نے سی جی ایس ٹی ، ایس جی ایس ٹی اور آئی جی ایس ٹی کے اجزأ ،بِلنگ کے عمل میں وغیرہ سے متعلق موجود سینئر اَفسران کے سامنے خدشات کا اِظہار کیا اور سوالات اُٹھائے ۔صدر پہلگام ہوٹلیئر ایسو سی ایشن جاوید برزہ نے تجویز پیش کی کہ موجودہ ہوٹلوں کو بھی نئے ہوٹلوں کو دی جانے والی مراعات کے تحت فائدہ حاصل کرنا چاہیے جنہیں صنعت قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد ان کے شعبے کو مزید فروغ دینا ہے۔پنجابی رسوئی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان کاروبار ی گرپریا کور نے کہا،’’ ہم واقعی معلومات کے اِس تبادلے کی تعریف کرتے ہیں اور یہ ہمیں غلط معلومات کا شکار ہونے سے روکے گا۔‘‘پلائیووڈاِنڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر ایاز احمد منسی نے علاقے میں غیر رجسٹرڈ ڈیلروں کے ٹیکس کے عمل کو چھوڑنے اور اِس طرح کی بد دیانتی کی وجہ سے رجسٹرڈ ڈیلروں سے پیدا ہونے والے نقصان پر تشویش کا اِظہا ر کیا۔ڈپٹی کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ( انفورسمنٹ ) جنوبی کشمیر شاہنواز شاہ ،اسسٹنٹ کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ( ٹیکنیکل) وسیم راجہ ، پروگرامروجاہت محمود اور ریاستی محکمہ ٹیکس کے دیگر اَفسران نے شرکأ کے سوالات کے جوابات دئیے جن میں جی ایس ٹی کی ادائیگی ، انوئسنگ ، غیر رجسٹر ڈ ڈیلروں سے موصول ہونے والی سپلائز وغیرہ شامل ہیں۔بعد میں اننت ناگ ، کولگام ، شوپیاں اور پلوامہ اَضلاع کے سٹیٹ ٹیکسز اَفسران کے ساتھ ایک اِجلاس منعقد ہوا۔ جن حلقوں کا جائزہ لیا گیااُنہوں نے آج تک اَپنے ہدف کے حصول کو پیش کیا۔اِس موقعہ پر محکمہ کا پہلا نیوز لیٹر بھی جاری کیا گیا جس میں جی ایس ٹی اور محکمہ کی طرف سے اُٹھائے گئے اقدامات سے متعلق اَپ ڈیٹس سامنے آئے ہیں۔