سری نگر میں’’ اوبسٹیٹرکس اور گائنا کالوجی میں اُبھرتے ہوئے چیلنجوں‘‘ کے موضوع پر قومی کانفرنس اِختتام پذیر

بھوپندر کمار نے اوبسٹیٹرکس اور گائنا کالوجی شعبوں کی پیش رفت اور ترقی کی سراہنا کی

سری نگر//گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے پوسٹ گریجویٹ ڈیپارٹمنٹ آف اوبسٹیٹرکس اینڈ گائنا کالوجی کے زیر اہتمام ’’ اوبسٹیٹرکس اور گائنا کولوجی میں اُبھرتے ہوئے چیلنجوں‘‘ کے موضوع پر دو روزہ قومی کانفرنس آج اِختتام پذیر ہوئی ۔اِس سے قبل سیکرٹری صحت و طبی تعلیم بھوپندر کمار نے کانفرنس کا اِفتتاح کیا۔پرنسپل و ڈین جی ایم سی سر ی نگر پروفیسر مسعود تنویر اور سابق سربراہ گائنا کولوجی اینڈ آبسٹیٹر یکس جی ایم سی سری نگر پروفیسر بلقیس جمیلہ مہمانِ خصوصی تھے۔سربراہ گائنا کالوجی اینڈ اوبسٹیٹرکس جی ایم سی سری نگر پروفیسر رضوانہ حبیب اور پروفیسر سیّد معصوم رضوی ،پروفیسر سامیہ مفتی بالترتیب آرگنائزنگ چیئرپرسن اور آرگنائزنگ سیکرٹری کے فرائض اَنجام دے رہی تھیں۔بھوپندر کمار نے حالیہ رجحانات پر قومی سطح کانفرنس اور کم سے کم رسائی سرجریوں پر ورکشاپ کے انعقاد پر محکمہ کی سراہنا کی۔ اُنہوں نے گائنی کولوجی اینڈ اوبسٹیٹرکس شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی بھی ستائش کی اور حاملہ مائوں کے لئے فائدہ مند سرکاری سکیموں پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے ضلعی ہسپتالوں میں سیزرین سیکشن سرجریوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اِظہار کیا اور آرگنائزنگ کمیٹی سے کہا کہ وہ پینل ماہرین کی بحث و تمحیص کی سفارشات پیش کرے۔پرنسپل و ڈین پروفیسر مسعود تنویر نے قومی کانفرنس کے کامیاب اِنعقاد پر شعبہ کو مبارک باد پیش کی اور آج خواتین کو درپیش پیچیدگیوں اور صحت مسائل سے نمٹنے کے لئے مہارتوں اور ٹیکنالوجیوں کو مسلسل اَپ گریڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔پروفیسر (ڈاکٹر) بلقیس جمیلہ نے فیکلٹی کو مُبارک باد پیش کی اور کانفرنس اور کم سے کم رَسائی کی سرجریوں پر بہترین ورکشاپ کے اِنعقاد پر ڈیپارٹمنٹ کی سراہنا کی۔سربراہ گائنا کالوجی اینڈ او بسٹیٹرکس پروفیسر (ڈاکٹر ) رضوانہ حبیب نے ملک کے مختلف طبی اِداروں کے تمام معززین ، فیکلٹی ممبران اور مندوبین کو خوش آمدید کیا۔ اُنہوں نے اَپنے خطبہ اِستقبالیہ میں کانفرنس کے موضوع اور میڈیکل سائنس کے میدان میں مسلسل بدلتی ہوئی تکنیکی ترقی کو اُجاگر کیاجس کے نتیجے میں بیماریوں کی تشخیص اور علاج کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جدید ترین علم ، مہارتوں کو اَپ ڈیٹ کرنے اور حاصل کرنے کی اَشد ضروری ہے جس کے لئے کانفرنس اور ورکشاپ علم کی تشلیر اور تبادلہ خیال کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہیں۔اُنہوں نے ایل ڈی ہسپتال میں کام کے بوجھ اور جدید ترین کم سے کم رَسائی سرجری او ٹی ، جنین کی دوا اور آئی وی ایف سینٹر کے قیام کی ضرورت کی مختصر تفصیل بھی دی۔پروفیسر سیّد معصومہ رِضوی نے مہمانِ خصوصی ، آپریٹنگ فیکلٹی ، اینستھیزیا فیکلٹی اور تمام مندوبین کا شکریہ اَدا کیا۔ کانفرنس کے پہلے دِن گورنمنٹ ایل ڈی ہسپتال سری نگر میں ماہر نیشنل آپریٹرنگ فیکلٹی ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن ، ڈاکٹر ملنڈ تلنگ اور ڈاکٹر نکیتا تریہان کے علاوہ ہسپتال فیکلٹی اور تھیٹر سٹاف نے ’’ کم سے کم رسائی سرجری‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا اِنعقاد کیا جس میں متعدد ایڈوانس رسک لیپروسکوپک اور ہسٹروسکوپک سرجریاں کی گئیں۔پورے دن کا پیپر اور پوسٹر پریزنٹیشنزتھے جس میں ملک بھر سے مندوبین اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلباء کو اپنی تحقیق کو دکھانے کے لئے ایک پلیٹ فارم ملا۔ یہ سرجری کے سینئر پوسٹ گریجویٹ سٹوڈنٹ ڈاکٹر دیپک شرما کی یاد میں وقف کیا گیا تھا جو ایک اَفسوس ناک حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اِس موقعہ پر پیپر اور پوسٹر پرزنٹیشنز فاتحین کو اِنتظامی سیکرٹری اور دیگر دستخط کنند گان نے اَنعامات دئیے۔اس کے بعد سنیچروار کو گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے آڈیٹوریم ہال میں ’’سائنسی سیشن پروگرام‘‘ کا اِنعقاد کیا گیا۔ اس میں ملک بھر کے مختلف میڈیکل کالجوں کی معروف فیکلٹی کی طرف سے اُبھرتے ہوئے خواتین کے صحت اور درپیش مسائل جیسے بانجھ پن، مینوپاز، گائنی اونکولوجی، ابتدائی حمل کے چیلنجز، قبل از وقت لیبر، ہائی رسک اوبسٹیٹرکس وغیرہ کے بارے میں لیکچرز شامل تھے۔کانفرنس میں ہندوستان بھر سے 250 سے زائد فیکلٹی اور مندوبین نے شرکت کی جن میں اوبسٹیٹرکس اینڈ گائنا کالوجی جی ایم سی سری نگر کے سابق سربرا ہان بھی شامل تھے ۔یہ کانفرنس شرکا ٔ کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی۔