مقامی باشندوں کا کیرن کیلئے علیحدہ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ
سرینگر//شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کا سرحدی علاقے کیرن، مژھل اور ٹیٹوال جو کبھی دور افتادہ اور سرحدی حساس گاؤں کے طور پر جانے جاتے تھے، آج وادی کشمیر کے ابھرتے ہوئے سیاحتی مقامات میں شامل ہو چکا ہے۔یو این ایس کے مطابق دریائے کشن گنگا کے کنارے سرسبز پہاڑوں کے دامن میں واقع اس خوبصورت وادی میں سیاحوں کی بڑھتی آمد نے نہ صرف مقامی معیشت کو نئی زندگی بخشی ہے بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔مقامی باشندوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران کیرن میں سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ہوم اسٹے، ریستوران، ٹیکسی سروس، مقامی ٹرانسپورٹ اور دیگر سیاحتی کاروبار تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے نوجوانوں کو اپنے ہی گاؤں میں باعزت روزگار حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے اور اب انہیں ملازمت کی تلاش میں دوسرے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔بہت سے نوجوانوں نے اپنے گھروں کو جدید ہوم اسٹے میں تبدیل کر دیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی سیاحوں کی تعداد کو بہتر رہائش فراہم کی جا سکے، جبکہ متعدد افراد نے ریستوران، مقامی ٹیکسی سروس اور دیگر چھوٹے کاروبار شروع کرکے اپنی معاشی حالت میں نمایاں بہتری لائی ہے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ سیاحوں کی بڑھتی آمد سے نہ صرف مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں باعزت روزگار میسر آیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں محدود روزگار کی وجہ سے نوجوانوں کو بیرونِ ضلع یا دیگر علاقوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، لیکن اب سیاحت نے ان کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔یو این ایس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کیرن میں امن و امان کی بہتر صورتحال، بھارتی فوج اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرحدی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں نے اس علاقے کو ایک نمایاں سیاحتی مقام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مقامی اندازوں کے مطابق سیاحتی سیزن کے دوران روزانہ تقریباًدو ہزار سیاح کیرن کا رخ کرتے ہیں، جس سے علاقے کی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ رہا ہے اور مقامی کاروبار تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔فرہاد نامی ایک مقامی باشندے نے کہا کہ بھارتی فوج نے کیرن میں سیاحت کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور علاقے کی معاشی ترقی کو بھی نئی رفتار ملی ہے۔دوسری جانب مختلف ریاستوں سے آنے والے سیاح بھی کیرن کی قدرتی خوبصورتی اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی سے بے حد متاثر دکھائی دیتے ہیں۔نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے سیاح انیل نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ کشمیر آ چکے ہیں، لیکن کیرن کا یہ پہلا سفر ان کے لیے ایک منفرد تجربہ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق سرسبز میدان، دریائے کشن گنگا کا دلکش منظر اور مقامی لوگوں کی گرمجوش مہمان نوازی نے کیرن کو ان کی پسندیدہ سیاحتی منزل بنا دیا ہے۔ممبئی سے آئے سیاح سوربھ نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر کیرن کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن حقیقت میں یہ مقام ان کی توقعات سے کہیں زیادہ خوبصورت نکلا۔ انہوں نے ہوم اسٹے میں قیام کو انتہائی خوشگوار تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں نے انہیں اپنے گھر کے فرد جیسا احساس دلایا اور وہ مستقبل میں دوبارہ کیرن ضرور آئیں گے۔یو این ایس کے مطابق اگرچہ مقامی لوگ سیاحت میں ہونے والی غیر معمولی ترقی پر خوش ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کیرن کے لیے ایک علیحدہ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے تاکہ منصوبہ بند انداز میں سیاحتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔مقامی باشندوں نے کرالپورہ۔کیرن شاہراہ پر مختلف مقامات پر عوامی بیت الخلاؤں کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث سیاحوں کو مشکلات پیش آتی ہیں، جبکہ بروقت سرمایہ کاری اور جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی سے کیرن کو کشمیر کے نمایاں سرحدی سیاحتی مراکز میں مستقل مقام دلایا جا سکتا ہے۔










