سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ٹنگڈار میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی، عوام سراپا احتجاج
سرینگر /پیرزادہ سعید / /سرحدی علاقہ کرناہ، جو جموں و کشمیر کے دشوار گزار پہاڑوں کے درمیان واقع ہے، اس وقت صحت کے ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔کشمیر پریس سروس نمائندہ پیرزادہ سعید کے ساتھ بات کرتے ہوئے علاقہ کے معززین نے بتایا کہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال (ایس ڈی ایچ) ٹنگڈار جس سے اس علاقہ کے لوگوں کے لیے زندگی کی ڈور سمجھا جاتا تھا، آج عملے کی کمی، پالیسی کی ناکامی اور سرکاری بے حسی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس خطے کی ایک لاکھ سے زائد آبادی علاج و معالجہ کے لیے بے بسی اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔روزانہ او پی ڈی میں 400 سے زائد مریض اور 20 کے قریب ایمرجنسی کیس رجسٹر ہوتے ہیں، لیکن حیران کن طور پر اس ہسپتال میں نہ کوئی ماہر امراض نسواں ہے، نہ بچوں کا ڈاکٹر، نہ سرجن، نہ اینستھیزٹسٹ اور نہ ہی جنرل فزیشن۔ آپریشن تھیٹر ضرورت کے باوجود غیر فعال ہے کیونکہ کوئی ڈاکٹر دستیاب ہی نہیں۔ اپریل سے اب تک تقریباً 400 حاملہ خواتین کو علاقے سے باہر ریفر کیا گیا ہے اور روزانہ 2 سے 3 خواتین کو بنیادی زچگی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کرناہ ہیلتھ بلاک کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ جولائی میں تین ڈاکٹروں کی تعیناتی کے احکامات ہوئے، لیکن کسی نے جوائن نہیں کیا۔ 31 منظور شدہ ڈاکٹروں کی آسامیوں میں صرف 12 پْر ہیں۔ ایس ڈی ایچ ٹنگڈار کو 27 ڈاکٹروں کی ضرورت ہے لیکن صرف 6 تعینات ہیں۔ 214 میڈیکل و پیرا میڈیکل اسامیوں میں 103 خالی پڑی ہیں۔ چترکوٹ اور ٹیٹوال کے پی ایچ سی میں ایک بھی آلپیتھک ڈاکٹر موجود نہیں۔ گبرا میں ڈاکٹر تو ہیں لیکن پیرا میڈیکل عملہ ندارد۔ یہ مراکز علاج گاہوں کے بجائے محض کاغذوں پر درج ناموں تک محدود ہیں۔اس صورتحال کا انسانی پہلو نہایت کربناک ہے۔ ایک این ایچ ایم ڈاکٹر نے، جو گزشتہ 18 برس سے ٹنگڈار میں خدمات انجام دے رہا ہے، روتے ہوئے کہا:”میں نے کون سا جرم کیا ہے کہ اتنے برسوں سے بغیر پالیسی، بغیر ریلیف اور بغیر کسی سہولت کے یہاں پھنسا ہوں، میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں ہوں، لیکن پھر بھی مریضوں کو دیکھتا ہوں کیونکہ انہیں میرے سوا کوئی نہیں۔ لیکن مجھے بھی 3 سے 4 سال کا وقفہ چاہیے۔”اسی طرح کئی این ایچ ایم ڈاکٹرز، جو 15 برس سے زائد عرصے سے کرناہ میں خدمات دے رہے ہیں، آج تک باقاعدہ ملازمت، رہائش، بارڈر الاؤنس اور سہولیات سے محروم ہیں۔ ڈاکٹروں کو ہفتے میں 160 گھنٹے سے زائد کام کرنا پڑ رہا ہے، جو معمول سے تین گنا زیادہ ہے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ پورے کرناہ میں ایک بھی خاتون ماہر امراض نسواں تعینات نہیں۔ یہ کمی ہر روز خواتین کی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ عوام نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک لیڈی گائناکالوجسٹ تعینات کی جائے۔علاقے میں باہمی تبادلہ پالیسی (Mutual Transfer Policy) بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ لداخ میں یہ پالیسی برسوں سے کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت دور دراز علاقوں میں تعینات ڈاکٹروں کو مقررہ مدت کے بعد دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے، لیکن کشمیر میں ایسا کوئی نظام نہیں۔ ایک بار کرناہ میں پوسٹنگ کے بعد ڈاکٹر برسوں تک پھنسا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے ڈاکٹر یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔کرناہ کے عوام کے مطالبات کوئی غیر معمولی نہیں بلکہ جائز اور ضروری ہیں۔ سیول سوسائٹی کرناہ نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام خالی اسامیوں کو فوری طور پر پْر کیا جائے، ماہر ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے اور سرحدی علاقوں کے عملے کو خصوصی مراعات دی جائیں۔ادھر اے آئی پی کے رہنما فیاض کرنائی نے بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرناہ جیسے حساس بارڈر ایریا میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر سینئر ڈاکٹروں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔آج سب ضلع ہسپتال کے باہر فیاض کرناہی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔فیاض نے کہا کہ کرناہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ڈاکٹروں کی تعیناتی صرف کاغزات تک محدود رکھتی ہے۔ زمینی سطح پر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا۔انہوں نے سرکار سے کہا کہ آخر کیا ماجرہ ہے کہ یہاں ڈاکٹر آنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں۔










