ملک کو کافی در پردہ مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ،کسی بھی صورتحال کو مقابلہ کرنے کیلئے فوج تیار / جنرل منوج پانڈے
سرینگر // پاکستان اور چین سے لگنے والی سرحدوں پر صورتحال قابو میں ہے کی بات کرتے ہوئے نئے فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ بھارت نے چین پر واضح کر دیا ہے کہ وہ مشرقی لداخ میںحقیقی کنٹرول لائن پر پر جمود میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دے گااور نہ ہی پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر دراندازی یا کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمیوںکا برداشت کریگا ۔ سی این آئی کے مطابق انگریزی خبر رساں ادارہ اے کے ساتھ ایک انٹرویو میں فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور حقیقی کنٹرول لائن پر دونوں طرف کی صورتحال معمول پر ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہندوستان نے چین پر واضح کر دیا ہے کہ وہ حقیقی کنٹرول لائن پر جمود میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دے گا۔’’ہمارے مخالف کی طرف سے یکطرفہ اور اشتعال انگیز کارروائیوں کا مقصد طاقت کے ذریعہ جمود کو تبدیل کرنا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس کا کافی جواب دیا گیا ہے‘‘۔ نئے آرمی چیف نے مزید کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان بات چیت کا عمل جاری ہے، ہمیں یقین ہے کہ یہ آگے بڑھنے کا راستہ ہے، ہمیں یقین ہے کہ جب ہم دوسری طرف سے بات کرتے رہیں گے تو ہم جاری مسائل کا حل تلاش کر لیں گے۔نہوں نے کہا کہ فوج نے ہمیشہ ملک کے تحفظ کیلئے خود کو وقف کیا ہے اور ملک کی حفاظت کیلئے پیش پیش رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو کافی در پردہ مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم ان سب سے نمٹنے کیلئے فوج ہمیشہ تیار ہے اور کسی بھی صورتحال کو مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کی حالت میں رہتے ہیں ۔ پاکستان اور چین کے ساتھ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے سینئر فوجی کمانڈر مشرقی لداخ میں تناؤ کے خاتمے کے لئے طریق کار کو مستحکم کرنے کے لئے بات چیت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ،کہ ہم کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لئے پرامید ہیں جو باہمی طور پر قابل قبول ہے اور پالیسی کی اہم رہنما خطوط پر عمل درآمد کرنے میں واقعی فائدہ مند ہے۔آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ مشرقی لداخ میں صورتحال کافی مستحکم ہے۔اونچائی والے خطے میں تعینات ہندوستانی فوجیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مناسب لباس اور ہتھیاروں سے لیس ہیں ، اور مزید کہا کہ اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ایل او سی کی صورتحال پر آرمی چیف نے کہا کہ ایل او سی کے دونوں جانب زمین پر شہری آبادی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے لیکن عسکریت کے انفراسٹرکچر اور تربیتی کیمپوں میں کمی کے حوالے سے کوئی شواہد یا بہتری کے آثار نظر نہیں آتے۔ آرمی چیف نے کہا کہ اس کے برعکس، ہم دیکھتے ہیں کہ عسکری کارروائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔










