جموں//ایگریکلچرل اکنامکس ریسرچ ایسوسی ایشن ( انڈیا ) کی تین روزہ 30 ویں سالانہ کانفرنس ’’انسٹی چیوشنل چینجز فار انکلوسِو اینڈ سسٹین ایبل ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ ‘‘ کے موضوع پر آج سکاسٹ جموں میں شروع ہو رہی ہے ۔ کانفرنس کا انعقاد زرعی اقتصادیات اور زرعی کاروبار کے انتظام کے ڈویژن سکاسٹ جموں کے ذریعے کیا جا رہا ہے ۔ سابق سیکرٹری ڈی اے آر ای اور ڈی جی آئی سی اے آر نئی دہلی ڈاکٹر منگلا رائے افتتاحی تقریب کے دوران مہمان خصوصی تھیں ۔ ڈاکٹر منگلا رائے نے اپنے خطاب میں کہا کہ زراعت میں پائیداری اور جامع ترقی وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے نشاندہی کی کہ ہمارے ملک کو ٹیکنالوجی اور پالیسی کی تھکاوٹ کا سامنا ہے جو کہ زرعی ترقی میں کمی کی بنیادی وجہ ہے ۔ انہوں نے زراعت میں پیدا وار میں اضافے کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کی تھکاوٹ کو دور کرنے کی پرزور وکالت کی ۔ انہوں نے ہندوستانی زراعت کو بہتر بنانے کیلئے ادارہ جاتی اور تکنیکی اصلاحات پر زور دیا ۔ سی ای او نیشنل رین فیڈ ایریا اتھارٹی ( این آر اے اے ) وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود حکومت ہند ڈاکٹر اشوک دلوائی نے زور دیا کہ پیشہ ور افراد کو اکٹھا ہونا چاہئیے اور اپنے متعلقہ شعبوں کے بارے میں علم کا تبادلہ کرنا چاہئیے ۔ وی سی سکاسٹ جموں اور کانفرنس کے سرپرست پروفیسر جے پی شرما نے اپنے خطاب میں سکاسٹ جموں کے قیام میں ڈاکٹر منگلا رائے کے بے پناہ تعاون کی تعریف کی ۔ انہوں نے کسانوں کی آمدنی میں تبدیلی لانے کیلئے جموں و کشمیر کے یو ٹی میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی مجموعی ترقی کیلئے تشکیل دی گئی اعلیٰ کمیٹی کے تمام اراکین کا خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے ہندوستانی زراعت کو تبدیل کرنے میں ڈاکٹر اشوک دلوائی کے کردار کی تعریف کی ۔ شروع میں ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر ڈاکٹر بی سی شرما نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔ صدر اے ای آر اے ڈاکٹر پی کے جوشی نے تین روزہ کانفرنس کے تفصیلی پروگرام کی وضاحت کی ۔ اس موقع پر پروفیسر نذیر احمد گنائی وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ، ڈاکٹر انجنی کمار ایس آر ایف ، آئی ایف پی آر آئی ، ڈاکٹر شاہد الرشید ڈائریکٹر جنوبی ایشیا آئی ایف پی آر آئی نئی دہلی ، یونیورسٹی کے قانونی افسران ، عملے کے ارکان ، طلباء ، مندوبین اور میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے ۔ افتتاحی پروگرام کی کارروائی ڈاکٹر انیل بھٹ اور مس ریکھا نائر نے چلائی جبکہ شکریہ کا ووٹ ڈاکٹر سدھاکر دویدی آرگنائیزنگ سیکرٹری اے ای آر اے 2022 نے پیش کیا ۔










