ریاستی درجہ ہوتا تو کسی بھی گھر کی مسماری نہ ہوتی// نائب وزیر اعلیٰ

ریاستی درجہ ہوتا تو کسی بھی گھر کی مسماری نہ ہوتی// نائب وزیر اعلیٰ

جموں و کشمیر میں اختیارات کی تقسیم پر سوال، بیوروکریسی پر فیصلوں کا الزام

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ حاصل ہوتا تو کسی بھی گھر کی مسماری جیسے اقدامات نہ کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہیں جبکہ اہم فیصلے بیوروکریسی کی سطح پر لیے جا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بات ہندوارہ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید اور لنگیٹ کے ایم ایل اے شیخ خورشید کے والد کے انتقال پر تعزیت کے لیے گئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔یو این ایس کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں حالیہ مسماری کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ تعمیرات اچانک یا راتوں رات نہیں ہوئی تھیں بلکہ برسوں سے موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ ڈھانچے تعمیر ہو رہے تھے تو متعلقہ محکموں کی نگرانی کہاں تھی، یہ ایک اہم سوال ہے۔انہوں نے ان کارروائیوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ حاصل ہوتا تو ایسے فیصلے زیادہ شفاف اور مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کی شمولیت سے کیے جاتے۔سریندر کمار چودھری نے مزید کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ منتخب حکومت کے پاس سینئر افسران پر مکمل کنٹرول نہیں ہے اور متعدد اہم فیصلے بیوروکریسی کی سطح پر کیے جا رہے ہیں، جس سے عوامی نمائندگی کا کردار محدود ہو جاتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ریاستی درجہ کی بحالی نہ صرف انتظامی توازن کیلئے ضروری ہے بلکہ یہ عوامی حقوق کے تحفظ اور زمینی سطح پر بہتر حکمرانی کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے جلد پورا کیا جانا چاہیے۔