sjay shankar

روس اور بھارت کی ساجھیداری کاوزیر خارجہ نے کیا دفاع

کہا مغربی ملکوںنے کئی دہائیوںتک بھارت کو ہتھیار سپلائی نہیں کئے تھے

سرینگر// وزیر خارجہ نے آج بھارت-روس کلیدی اور دفاعی ساجھے داری کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ مغربی ملکوں نے کئی دہائیوں تک بھارت کو ہتھیار سپلائی نہیں کئے۔سی این آئی کے مطابق وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے آج بھارت-روس کلیدی اور دفاعی ساجھے داری کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ مغربی ملکوں نے کئی دہائیوں تک بھارت کو ہتھیار سپلائی نہیں کئے۔ کینبرا میں آسٹریلیا کی وزیر خارجہ Penny Wong کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جے شنکر نے کہاکہ روس میں تیار ہتھیاروں کی تعداد میں مختلف وجوہات کے سبب اضافہ ہوا ہے، کیونکہ کئی دہائیوں تک بھارت کو مغربی ملکوں نے ہتھیار سپلائی نہیں کئے۔ روس-یوکرین تصادم کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت، یوکرین میں تصادم کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اِس بات میں یقین رکھتا ہے کہ تصادم سے کسی کے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے سمرقند میں روسی صدر ولادیمیرپوتن کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کی میٹنگ کا حوالہ دیا، جس میں نرندر مودی نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ دور جنگ کا نہیں ہے۔ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ Penny Wong نے بھی روس-یوکرین تصادم پر وزیراعظم نریندر مودی کی تشویش کا خیرمقدم کیا۔اس سے قبل ڈاکٹر جے شنکر نے آج کینبرا میں آسٹریلیا کی اپنی ہم منصب Penny Wong کے ساتھ 13ویں وزراء￿ خارجہ فریم ورک مذاکرات کیے۔ انہوں نے حالیہ مہینوں میں اہم وزارتی دوروں سمیت بھارت-آسٹریلیا جامع کلیدی ساجھے داری کی لگاتار پیش رفت کا جائزہ لیا۔دونوں وزراء نے اقتصادی اور ٹیکنالوجی تعاون کے سمجھوتے پر پیش رفت، دفاع، دہشت گردی مخالف، صلاحیت اور ہنر کے تبادلے، تعلیم، دوہرے ٹیکس سے بچنے، اہم معدنیات، سائبر، صاف ستھری توانائی اور پائیدار ترقیاتی اہداف جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے Quad، سہ فریقی فورم، G-20، اقوام متحدہ اور دیگر اہم فورموں میں قریبی اشتراک سے کام کرنے سے بھی اتفاق کیا۔