رنگ روڈ فیز اول کی تکمیل دسمبر کے آخر تک

رنگ روڈ فیز اول کی تکمیل دسمبر کے آخر تک

صوبائی کمشنر کشمیر نے پروجیکٹ کی تفصیلات شیئر کیں

سرینگر// یو این ایس / نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے سری نگر رنگ روڈ کے پہلے مرحلے کو دسمبر کے آخر تک مکمل کرنے کی داخلی مدت مقرر کی ہے۔ اس مرحلے میں پلوامہ ضلع کے گالندر سے نربل تک تقریباً 46 کلومیٹر طویل سڑک شامل ہے۔ڈویڑنل کمشنر کشمیر انشل گرگ نے ہفتہ کو رنگ روڈ کے مذکورہ حصے کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ این ایچ اے آئی نے دسمبر کے آخر تک کام مکمل کرنے کی مدت مقرر کی ہے اور انتظامیہ تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ معائنے کے دوران این ایچ اے آئی، ٹریفک حکام اور مختلف انجینئرنگ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ اس دوران تعمیراتی کام میں حائل رکاوٹوں، تجاوزات اور ٹھیکیداروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا تاکہ ان کے حل کے ذریعے کام کی رفتار تیز کی جاسکے۔ڈویڑنل کمشنر کے مطابق بجلی کے ٹرانسمیشن ٹاورز کی منتقلی پہلے منصوبے کی پیش رفت میں ایک مسئلہ بنی ہوئی تھی، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معاوضے کی ادائیگی کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت اراضی کے حصول یا کسی یوٹیلیٹی سے متعلق ایسی کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کام رکا ہوا ہو۔انشل گرگ نے کہا کہ مقامی نمائندوں اور اراکین اسمبلی کی جانب سے بھی رنگ روڈ کے پہلے مرحلے کو جلد از جلد عوام کے لیے کھولنے کی ضرورت پر بارہا زور دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گالندر سے نربل تک رنگ روڈ شمالی اور جنوبی کشمیر کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور پلوامہ سے نربل تک براہ راست راستہ فراہم ہوگا۔ اس کے علاوہ گلمرگ اور بارہمولہ جانے والی ٹریفک کے لیے متبادل راستہ دستیاب ہوگا، جبکہ بانڈی پورہ اور سونہ مرگ جانے والے مسافر بھی اس سڑک سے استفادہ کرسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ فیز اول کو بعد میں فیز دوم کے ساتھ جوڑا جائے گا، جو گاندربل اور پھر پانڈچ کی سمت آگے بڑھے گا۔ اس طرح بالآخر سری نگر کے گرد رنگ روڈ کا مکمل نظام تشکیل پائے گا۔ڈویڑنل کمشنر نے سری نگر ہوائی اڈے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (نِفٹ) کے ساتھ رابطے کے حوالے سے بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ہوائی اڈے، فضائیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ رنگ روڈ منصوبے کے ذریعے بڈگام قصبے کو بھی ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جسے این ایچ اے آئی داخلی سطح پر آگے بڑھائے گا۔مقامی لوگوں کی جانب سے رنگ روڈ پر براہ راست رسائی کے مزید مقامات فراہم کرنے کی درخواستوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ انشل گرگ کے مطابق فزیبلٹی ٹیم قومی شاہراہوں کے رہنما اصولوں کے تحت ان تجاویز کا جائزہ لے گی، جس میں راستوں کے درمیان فاصلہ، گاڑیوں کی رفتار، حادثات کے ممکنہ مقامات، ٹول پلازہ کی پوزیشن اور سڑک کے موڑ سمیت دیگر حفاظتی امور کو مدنظر رکھا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ رنگ روڈ کو عوام کے لیے کھولنے کی کوشش دسمبر کے آخر تک ہے، تاہم حتمی تکمیل کا انحصار موسمی حالات اور افرادی قوت کی دستیابی پر بھی ہوسکتا ہے۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرکے مسافروں کے لیے دستیاب بنایا جائے۔