Rawalpora

راولپورہ اسکول کے قریب کھلے کچرے کے ڈھیر سے صحت عامہ کو خطرات لاحق

سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود اسکول کے نزدیک کچرا پھینکنے کا سلسلہ جاری

سرینگر// یو این ایس//شہر سری نگر کے مضافاتی علاقے راولپورہ میں گورنمنٹ اسکول کے قریب قائم ایک بڑے غیر سائنسی کچرا ڈمپنگ پوائنٹ نے مقامی آبادی، طلبہ، راہگیروں اور مسافروں کیلئے سنگین صحت اور ماحولیاتی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ روزانہ ٹنوں کے حساب سے کچرا اس مقام پر پھینکا جاتا ہے جس سے نہ صرف پورے علاقے میں تعفن پھیل رہا ہے بلکہ آوارہ کتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے اسکولی بچوں اور بزرگوں کو خطرات لاحق ہیں۔مقامی باشندوں کے مطابق راولپورہ کے مصروف علاقے میں ایک خالی اراضی کو عملاً کچرا پھینکنے کی جگہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک کوڑا کرکٹ جمع رہتا ہے۔ یو این ایس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل سپریم کورٹ کی ان واضح ہدایات کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر حساس عوامی مقامات کے قریب کچرا پھینکنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کچرے سے اٹھنے والی بدبو اس قدر شدید ہوتی ہے کہ لوگوں کا وہاں سے گزرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے جب گرمی اور نمی کے باعث تعفن پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے۔مقامی رہائشی عبدالرشید نے کہا، ’’بدبو اس قدر ناقابل برداشت ہے کہ صبح کی سیر یا شام کی چہل قدمی بھی ممکن نہیں رہی۔ پورا علاقہ بدصورت منظر پیش کرتا ہے اور یہاں رہنے والوں کیلئے باعثِ شرمندگی بن چکا ہے۔‘‘مقامی لوگوں کے مطابق گرمیوں کے موسم میں مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر لیتا ہے کیونکہ شادی بیاہ کی تقریبات سے بچ جانے والا کھانا بھی اسی مقام پر پھینک دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تعفن میں اضافہ ہوتا ہے اور جراثیم و حشرات کی افزائش کیلئے سازگار ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔رہائشیوں نے بتایا کہ کچرے کے ڈھیر آوارہ کتوں کی پناہ گاہ بن چکے ہیں اور روزانہ درجنوں کتے وہاں جمع رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اسی راستے سے قریبی اسکولوں کے طلبہ و طالبات روزانہ گزرتے ہیں، اس لئے والدین میں خوف و تشویش بڑھ رہی ہے۔ایک اور مقامی شہری نثار احمد نے کہا، ’’قریبی اسکولوں کے سینکڑوں طلبہ روزانہ اس سڑک سے گزرتے ہیں۔ کچرے کے اردگرد آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بچوں کیلئے مستقل خطرہ بن چکی ہے۔یو این ایس کے مطابق والدین ہر وقت اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آجائے۔‘‘روزانہ اس علاقے سے گزرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ کھلے عام کچرا پھینکنے سے پورے علاقے کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے جہاں اس طرح کا غیر سائنسی کچرا ڈمپنگ نظام ناقابل قبول ہے۔ایک راہگیر نے کہا، ’’بزرگ افراد اور بچے گندگی، بدبو اور بیماریوں کے خوف سے یہاں سے گزرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنایا جا رہا ہے تو سب سے پہلے ایسے کچرے کے ڈھیر ختم ہونے چاہئیں۔‘‘مقامی آبادی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ مسلسل جمع ہونے والا کچرا مختلف بیماریوں اور انفیکشنز کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں جب جراثیم اور مکھیاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف قریبی آبادی بلکہ اسکول کے طلبہ اور عملہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔اس معاملے نے ایک بار پھر ٹھوس فضلہ انتظامی قوانین (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رولز) اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے متعدد فیصلوں میں مقامی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسکولوں اور اسپتالوں جیسے حساس مقامات کے آس پاس کچرے کے ڈھیروں کو ختم کریں اور سائنسی طریقے سے فضلہ کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کریں۔عدالت عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کھلے عام کچرا پھینکنا اور غیر سائنسی انداز میں فضلہ جمع کرنا ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتا ہے اور یہ شہریوں کے بنیادی حقِ زندگی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔یو این ایس کے مطابق عدالت نے مقامی بلدیاتی اداروں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ’’زیرو فریش ڈمپنگ‘‘ پالیسی پر عمل کریں اور نئے کچرا ڈمپنگ مقامات کے قیام کو روکیں۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ متعدد شکایات اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود متعلقہ حکام نے اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔