راج بھون نے وزیر اعظم کی ’من کی بات‘ کے 100 ویں قسط کی تقریب کی میزبانی کی

جموں//جموںوکشمیر راج بھون نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ من کی بات‘ پروگرام کی 100ویں قسط کی میزبانی کی۔اِس تقریب میں نامور شخصیات ، نوجوان کامیابی حاصل کرنے والے ، کھلاڑی ، پدم شری اور پنچایت ایوارڈز کنند گان ، قومی اور یوٹی سطح کے ایوارڈ یافتہ ، سیلف ہیلپ گروپ کے اراکین، جموںوکشمیر یوٹی بھر کے شہری جن کا تذکرہ وزیر اعظم نریندرمودی نے ’ من کی بات‘ کے گذشتہ قسطوں میں کیا ہے ،خصوصی طور پر مدعو کئے گئے تھے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا ،’’ من کی بات 140 ہم وطنوں کی آواز ہے ۔ یہ اُن کی اُمنگوں ، خوابوں ، چیلنجوں ، کامیابی ، عزم اور نئے آغاز کی باز گشت کرتا ہے ۔’من کی بات‘ ہماری ثقافتی روایات اور اِس نظریات اور آدرشوں میں گہری جُڑی ہوئی ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ’من کی بات‘ سے شہریوں کے ساتھ ایک مؤثر اور دوطرفہ رابطہ قائم کیا ہے اور ریڈیو کو ہر کنبے کا لازمی حصہ بنایا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ مکالمہ جمہوریت کی روح ہے ۔ ایک سیاستدان اور شہریوں کے درمیان براہِ راست رابطہ اِس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد مضبوط ہے ، حکمرانی میں شہریوں کی شرکت کو یقینی بنایا جاتا ہے اور ان کی آواز پالیسیوں کے مرکز میں ہوتی ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ’من کی بات ‘ وزیرا عظم کے ’’ سب کا ساتھ ، سب کا وِکاس ، سب کا وِشواس اور سب کا پریہاس‘‘ کے نظریۂ کی حقیقی عکاسی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ’من کی بات ‘ پروگرام نے عام آدمی کو قوم کی تعمیر میں کلیدی شراکت دار بننے کا اِختیار دیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کثرت میں وحدت اور ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے جذبے کو مضبوط کرنے میں ’ من کی بات ‘ پروگرام سے اَدا کئے گئے اہم کردار پرروشنی ڈالی۔اُنہوں نے اکتوبر2014ء کے آغاز سے ’ من کی بات‘ نے معاشرے کے ہر طبقے کو چھولیا ہے اور ایک نئے نئے سماجی اِنقلابی شکل دینے کے لئے طرزِ عمل میں تبدیلی کو متاثر کیا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ’ من کی بات‘ نہ صرف ایک طاقتور ریڈیو پروگرام ہے بلکہ یہ معاشرے کے خوابوں اور عزم کو پورا کرنے کے لئے تحریک کا ذریعہ بھی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ’ من کی بات‘ کے 100 ویں قسط کی یاد میں ایک تصویری نمائش کا بھی اِفتتاح کیا۔