dooran news

دیہات کو ترقی کی منزلوں پر لے جانے سرکار کے دعوے بے بنیاد اور من گھڑت:عوامی حلقے

سرینگر//دیہات کو ترقی کی منزلوں پر گامزن کرنے اور عوام کے مشکلات کا ازالہ کرنے اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے سرکار کے دعوے کھوکھلے اور بے بنیاد ثابت ہورہے ہے ایم جی نریگا اسکیم کے تحت تعمیراتی پروجیکٹوں کوپائے تکمیل تک پہنچانے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کو رہائشی مکان تعمیر کرانے کیلئے سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد مستحق کنبوں کو منتقل نہیں ہو پارہی ہے جبکہ دیہی ترقی محکمہ کھوکھلاہوچکاہے اور قوائد وضووابط کی جس بڑے پیمانے پر دھجیاں اڑا ئی جارہی ہے اس کی کہی مثال نہیں مل پارہی ہے ۔جوابدیہی کافقدان بے معنیٰ ہو کررہ گیاہے او لوگوں کی امیدیں ختم ہوتی جارہی ہے۔ اے پی آ ئی نمائندے کے مطابق جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ واپس لینے 73-74ترمیم لاگو کرنے بی ڈی سی ڈی ڈی سی ممبران چیئرپرسنوں پنچوں سر پنچوں کو اختیارات دینے اور اقتدار کو نچلی سطح تک لے جانے سرکار کے دعوے سرآب ثابت ہوتے جارہے ہے۔وادی کے اطراف واکناف سے خبررساں ادارے اے پی آ ئی کولوگ شکایت کرتے ہے کہ ایم جی نریگا اسکیم یاتو چند افراد کے لئے سونے کی کھان ثابت ہورہی ہے یا پھر اس اسکیم کوسرکار نے سیاسی کارکنوں لیڈروں اور اب ن الوقت افراد کے لئے مقرر کرکے عام لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کارروائی عمل میں لائی ہے ۔عوامی حلقوں کاکہناہے کہ ایم جی نریگا اسکیم کے تحت ان بیروزگاروں کو سو دن کاکام فراہم کرنا ہے جو بیروز گار ہے اور انہوںنے دیہی ترقی محکمہ سے جاب کارڈ حاصل کئے ہے لوگوں کاکہناہے کہ ایم جی نریگا اسکیم کے تحت وادی کشمیرمیں صرف 20-25%جاب کارڈ ہولڈروں کو سو ددن کاکام فراہم کیاجاتاہے اور بیشتر جاب کارڈ ہولڈر یاتو اپنی قسمت پر روتے ہے یا ان کے جاب کارڈ غیر قانونی طریقہ کار کے لئے استعمال کئے جاتے ہے،اسکیم کے تحت جہاں کہی بھی سڑک تعمیر کرنی ہوتی ہے وہاں جے سی بی کا استعمال کیاجاتاہے اور اگر دیوار بندی ہو کھیل کامیدان ہو تو جوقوائدوضوابط دیہی ترقی محکمہ نے واضح کئے ہے ان پر کہی بھی عمل نہیں ہوپارہاہے عوامی حلقوں کے مطابق گرام سبھا پنچ سرپنچ بی ڈی سی ڈی ڈی سی ممبران وچیئرپرسن مختلف اسکیموں اور سرکار کی جانب سے انہیں فراہم کی گئی رقومات کاتو غلط استعمال کرتے ہے یاسرکاری افسران انہیں تعاون فراہم نہیں کررہے ہے جسکے نتیجے میں نچلی سطح پر اقتدار کومنتقل کرنے کے دعوے بے بنیاد ثابت ہوتے جارہے ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق وزیراعظم اسکیم کے تحت غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کوپچھلے کئی برسوں سے آشیانے تعمیرکرنے کے لئے امداد فراہم نہیں کی جارہی ہے د یہی ترقی محکمہ کاماننا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پیسے الرٹ نہیںہورہے ہے اور مرکزی دیہی ترقی وزارت کے جب اعداد شمار سامنے لائے جاتے ہے تو مرکزی حکومت نے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کے لئے رقومات فراہم کی ہے تاہم یہ عام انسان تک نہیں پہنچ پائے ہے مجموعی طور پر دیہی ترقی محکمہ لوگو ںکے ان تواقعات پر کھرا نہیں اتر رہاہے جسکی توقع کی جاتی تھی اور لوگوں نے پنچایت بی ڈی سی ڈی ڈی سی الیکشن کے بعد دیہات کو ترقی کی منزلوں پر پہنچانے کی خاطر جوامیدلگائی تھی وہ دم توڑ رہی ہے ۔۔افسر شاہی عوا م کے مشکلات کاازالہ کرنے میںیا تو سنجیدہ نہیں ہے یاوہ بے بس دکھائی دیتے ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نچلی سطح پربھی تعمیراتی سرگرمیاں اس قدر ٹھپ ہوچکی ہیں کہ لوگوں کوطرح طرح کے مشکلات سے گزرنا پڑرہاہیں ۔