سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنگلات و ماحولیات دھیرج گپتا نے آج یہاں بینکٹ ہال ایم اے روڈ میں وولر جھیل کے انتظام کے لئے ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکشاپ کا اِفتتاح کیا۔ اِس ورکشا پ کا اِنعقاد وولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی (ڈبلیو یو سی ایم اے) نے مرکزی وزارتِ ماحولیات و جنگلات اورکلائمیٹ چینج (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) ۔ جرمن ڈیولپمنٹ کوآپریشن (جی آئی زیڈ) کے تکنیکی کوآپریشن پروجیکٹ ’ویٹ لینڈز مینجمنٹ فار بائیو ڈائیورسٹی اینڈ کلائمیٹ پروٹیکشن‘کے اِشتراک سے کیا تھا۔ورکشاپ کا مقصد اَب تک کے اِنتظامی اَقدامات، ان کی تاثیر پر تبادلہ خیال میں سہولیت فراہم کرنا اور وولر جھیل کے مربوط انتظام کے لئے مستقبل کی ترجیحات اور حکمت عملیوں کی مشترکہ طور پر نشاندہی کرنا ہے۔دھیرج گپتا نے اَپنے خطاب میں کہا کہ حکومت جموں و کشمیر نے مقامی کمیونٹیوںکے ماحولیاتی سیاحت اور لائیولی ہڈ پر خصوصی توجہ سے وولر جھیل کی بحالی اوراحیاء کے لئے ایک تبدیلی کے سفر کا آغاز کیا ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنگلات نے ماضی کی کوششوں اور اس کے نتائج کا مکمل تجزیہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری آرگنائزیشنوں میں مربوط کوششوں کو یقینی بنانے کے لئے بہتر بین محکمانہ تعاون پر زور دیا۔ اُنہوں نے وولر کو ایک سماجی اثاثہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ گذشتہ چار برسوں میں کشمیر میں سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے خطے کے قدرتی اور ثقافتی مقامات میں دلچسپی بڑھی ہے۔دھیرج گپتا نے مزید کہا کہ ورکشاپ وولر کے انتظام اور تحفظ کے لئے قابل عمل نکات تیار کرے گی جو ایک واضح اور جامع روڈ میپ فراہم کرے گی جس میں سنگ میل اور قابل پیمائش اشارے سے مخصوص ٹائم لائنز کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔ یہ روڈ میپ ڈبلیو یو سی ایم اے کی مستقبل کی کوششوں کی رہنمائی کرے گا جس کا مقصد وولر جھیل کے اِرد گرد دیرپا ماحولیاتی نظام کے حصول کے لئے شراکت داروںکے مابین بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔اِس سے قبل چیف ایگزیکٹیو دائریکٹر ڈبلیو یو سی ایم اے (سی اِی ڈی) ٹی ربی کمار نے شرکأ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اَب تک کی جانے والی مختلف تحفظاتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا کہ جھیل کے تقریبا 5مربع کلومیٹر کے نازک ترین رقبے کو نکال دیا گیا ہے جس سے پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مجموعی طور پر پانی کے نظام میں بہتری آئی ہے جس کے نتیجے میں رہائش گاہوں کی بحالی اور ایوئین سیاحوں کی ایک صف کو اَپنی طرف متوجہ کیا گیا ہے جس سے جھیل مائیگریٹری روٹوں پر ایک اہم سٹاپ اوور بن جاتی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ مسلسل نگرانی اور بہتر ویسٹ مینجمنٹ نے جھیل کے پانی کے معیار کو نمایاں طور پر برقرار رکھا ہے۔ سی اِی ڈی نے مزید کہا کہ ملٹی سٹیک ہولڈرز ورکشاپ بنیادی طور پر شراکت داروںکے متنوع نقطہ نظر کو مربوط کرنے اور وولر کے دیرپا اِنتظام کے لئے جامع حکمت عملی تیار کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم ہے۔ ڈائریکٹر ڈبلیو آئی ایس اے ڈاکٹر رتیش کمار نے بھی ورکشاپ کے دوران خطاب کیا اور ڈبلیو یو سی ایم اے کی طرف سے کی گئی سرگرمیوں کے اثرات پر روشنی ڈالی اور مستقبل کے اِنتظام کے لئے ایک وسیع خاکہ پیش کیا۔ایم او ای ایف اینڈ سی سی۔جی آئی زیڈ ٹیکنیکل کوآپریشن پروجیکٹ’ویٹ لینڈز مینجمنٹ فار بائیو ڈائیورسٹی اینڈ کلائمیٹ پروٹیکشن‘ جموں و کشمیر میں وولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی (ڈبلیو یو سی ایم اے)، جموں و کشمیر ویٹ لینڈ اتھارٹی اور جموں و کشمیر فارسٹ ڈیپارٹمنٹ (ڈی ای ای آر ایس) کے ساتھ ویٹ لینڈز انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا (ڈبلیو آئی ایس اے) کی تکنیکی مدد سے مشترکہ طور پر عملایا جارہا ہے۔ اِس ورکشاپ میں بانڈی پورہ اور بارہمولہ کی ضلعی اِنتظامیہ، آر ڈی ڈی، پی ایچ ای، سیاحت، ماہی پروری، زراعت، باغبانی، وائلڈ لائف پروٹیکشن اور جنگلات جیسے محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقامی این جی اوز، یونیورسٹی آف کشمیر، وائلڈ لائف اِنسٹی چیوٹ آف اِنڈیا، سکاسٹ کشمیر، نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف ہائیڈرولوجی جیسے اِداروں کے محققین اور وولر جھیل کے آس پاس کی ماہی گیر کمیونٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔










