دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد جموں کشمیر میں تشدد کی وارداتوںمیں 70فیصدی کمی ہوئی ۔ وزیر داخلہ

سرینگر///وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہڑتال ،سنگبازی اور احتجاجو کا دور ختم ہوگیا اور ایک امن وسلامتی اور تعمیر و ترقی کا دور چل رہاہے جس میں نوجوان اپنے مستقبل کو سنوارنے کی راہ چن رہے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ دفعہ 370کے خاتمہ سے جموں کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ کئی سیاست دان کہتے تھے کہ اس دفعہ کے خاتمہ کی وجہ سے حالات بگڑ جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا کیوں کہ وہ ماحول اب تاریخ بن چکا ہے ۔ جموں کیلئے ایک سو ای بسوں کا ورچل افتتاح کرنے کے دوران نئی دلی سے امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ جموں کشمیر کو سٹیڈ ہڈ کا جو وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا کیا جائے گا اور یہ کام اپنے وقت پر ہی ہوگا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں کیلئے 100ای بسوں کا ورچول افتتاح کرنے کے دوران کہا کہ جموں کشمیر حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں اور امن و قانون کی صورتحال بہتر ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ وہ دن گئے جب منتریوں کی پرچیوں پر نوکریاں دی جاتی تھیں، اب مناسب امتحانات ہو رہے ہیں۔ کئی دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد، دہشت گردوں کی املاک، حامیوں کو ضبط کیا جا رہا ہے ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ ہرتال، پتھراؤ اوراحتجاج ختم ہو گیا ہے اور جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیراور ترقی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے جبکہ سال بھر سکول بلاخلل کھلے رہتے ہیں اور ایسا پہلے نہیں ہوا کرتاتھا۔ انہوںنے بتایاکہ دفعہ 370کے خاتمہ سے قبل ہفتے میں صرف تین دن بچے سکول جایا کرتے تھے اور بقیہ تین دن مخدوش حالات کی وجہ سے بند رہتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں اب پتھر اور بندوقیں نہیں دکھتی بلکہ کھیل کود کا سامان ، لیپ ٹاپ نے اس کی جگہ لے لی ہے ۔امت شاہ نے جموں کے لوگوں کے لیے 100 ای بسوں کا ای-افتتاح کرنے کے بعد نئی دہلی سے جموں میں عملی طور پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر امن خوشحالی اور ترقی کی ایک نئی صبح دیکھ رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہاکہ آج جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی فعال حمایت سے ہرتال، منظم احتجاج اور پتھراؤ ماضی کی باتیں بن گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نوکریاں سیاسی رہنماؤں کی فعال حمایت سے دی جا رہی تھیں لیکن وہ دن گئے جب “وزراء نوجوانوں کو نوکریاں دینے کے لیے پرچیاں دیتے تھے۔آج ایسی پرچیوں کی جگہ امتحانی پرچوں نے لے لی ہے اور بھرتی شفاف طریقے سے ہو رہی ہے۔وزیر داخلہ نے کہاکہ جموں و کشمیر کے سیاست دان جو کہتے تھے کہ اگر آرٹیکل 370 چلا گیا تو جموں و کشمیر میں خون کی ندیاں بہیں گیںلیکن اس دفعہ کے خاتمہ کے بعد دہشت گردی میں 70 فیصد کمی آئی ہے، شہری ہلاکتوں میں 81 فیصد کمی آئی ہے، اور جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں 48 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں پنچایت راج نظام قائم کیا گیا ہے اور اس وقت حد بندی کی جا رہی ہے تاکہ چھوڑے ہوئے طبقات کو مناسب ریزرویشن یقینی بنایا جا سکے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2020 میں پتھر بازی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا جبکہ منظم احتجاج بھی ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں پتھر بازی میں 112 افراد ہلاک ہوئے اور 2020 میں یہ تعداد صفر ہے۔شاہ نے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے اور دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کی جائیدادوں کو سیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیںان کو پورا کیا جائے گااور سٹیٹ ہڈاپنے وقت پر دیاجائے گا۔ انہوںنے بتایا کہ اسمبلی الیکشن کرانے میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے البتہ بہت سی چیزیں ہیں جن پر ابھی کام کرناباقی ہے تاکہ عوام بغیر کسی خوف کے اپنے حق کا استعمال کرسکیں۔ امت شاہ نے بتایاکہ دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد حالات بہتر ہونے کی وجہ سے جموں کشمیر میں سب سے زیادہ جس شعبہ کوفائدہ پہنچاہے وہ سیاحتی شعبہ ہے جس کی وجہ سے جموںکشمیر کے لوگوں کی مالی حالت بھی بہتر ہورہی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ گزشتہ ستر برسوں کے دوران اس تعدادمیں سیاح جموں کشمیر نہیں آئے ہیں جتنی تعداد میں آج ٹورسٹ کشمیر کا دورہ کرتے ہیں۔