social media

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں ،مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

وادی میں صحافتی اقدا کی قبا چاک ،سوشل میڈیا پر شہریوں کی تذلیل کے واقعات قابل افسوس

سرینگر//وادی کشمیر میں سوشل میڈیا پر صحافت کے نام پرہلڑ بازی اور ذی عزت شہریوں کی کو سر راہ تذلیل کرنے کی رجحان دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے جبکہ رپورٹنگ اور جرنلزم کے نام پر خواتین ، بزرگوں اور دیگر شہریوں کے ویڈیو بناتے ہوئے اپنی سستی شہرت اور چند ووز حاصل کرنے کیلئے نام نہاد رپورٹر کسی کو بھی سڑک پر پکڑ کر ویڈیو بناتے ہیں ۔ اس صورتحال پر متعلقہ اداروں کی خاموشی پرعام لوگوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت جو ہورہا ہے یہ قطعی طور پر کشمیری سماج کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوسکتا ہے ۔ عوامی حلقوں نے ان بے تکے رپورٹروں اور سوشل میڈیا پر ہلڑ بازی اور ’’منکی ڈانس‘‘ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو کسی بھی چیز کی تشہیر اور مثبت پیغامات پھیلنے کیلئے عصر حاضر کا موثر ذریعہ ہے تاہم اس کا وادی کشمیر میں غلط استعمال کیا جارہا ہے ۔ آئے روز ایسے افراد سوشل میڈیا پر ایسے ایسے ویڈیو بناکر اپنی ٹی آر پی بڑھانے کیلئے لوگوں کی عزت اُچھالتے ہیں جن کا صحافت کے ساتھ دور دور تک تعلق نہیں ہے ۔ سوشل میڈیا پر ذی عزت شہریوں بشمول خواتین کی ویڈیو بناکر ان کو بے عزت کیا جارہا ہے اور مختلف بہانوں کے ذریعے انہیں پریشان کیا جاتا ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس صورتحال پرکوئی بھی ادارہ کارروائی نہیں کرتا کیوں کہ کسی بھی شہری کی تذلیل کرنا قانونی طور پر جرم ہے یہاں تک کہ اگر پولیس بھی کسی مجرم کسی جرم میں حرارت میں لیتی ہے تو میڈیاکے سامنے لانے یا عدالت تک لے جانے کے دوران بھی ان کے چہرے ڈھانپ دیئے جاتے ہیں تاکہ سماج میں ان کی چھبی متاثر نہ ہو لیکن یہاں توماجرا ہ کچھ او ر ہے وادی کشمیرمیں گزشتہ عرصے سے سوشل میڈیا لوگوں کی تذلیل کرنے اور ان کی عزت اُچھالنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے خاص کر ذی عزت شہریوں یہاں تک کہ خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے اور مختلف بہانے بناکر ان کی ویڈو بناکر ان کو بے عزت کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی فعل ہے ۔عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر حیرت اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر صحافتی اقدار کی پاسداری تو دور اس کے ابتدائی قواعد پر بھی عمل نہیں ہورہا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ متعلقہ محکمہ جات بھی خاموش ہے جبکہ ایک شخص گاڑی میں کہیں جارہا ہے تو سوشل میڈیا پر ویڈیو بنانے وال ’’غنڈہ ‘‘ نما شخص اس کو گاڑی سے باہر کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی ویڈیو بناکر اس کو بدنا م کرکے رکھ دیتا ہے ۔ ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے اور چلا چلاکر ویڈو بناتے ہوئے اس کی تذلیل کرکے اس کو ذہنی کوفت کا شکار بنایا جاتا ہے اور کوئی ان افراد کے خلاف کارروائی نہیں کرتا ۔ انہوںنے بتایا کہ اس طرح سے سوشل میڈیا پر لوگوں کی تذلیل کرنے کا رجحان بند ہونا چاہئے اور نام نہاد صحافیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے کیوں کہ یہ ہمارے سماج کیلئے نہ صرف نقصان دہ ہے بلکہ اس طرح کی کارروائیوں سے کسی کی جان بھی چلی جاسکتی ہے کیوںکہ اگر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر بے عزت کیا جائے اور وہ سماج کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو اوروہ خود کشی کرلے یا پھر کوئی اور سنگین قدم اُٹھانے کی طرف راغب ہوگا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ۔