لیوینڈر کی کاشت سے کسانوں کی آمدنی میں 4سے 5گنا اِضافہ ہوا
سری نگر//جموںوکشمیر حکومت کی مسلسل مداخلتوں اور مختلف سکیموں کی عملانے سے جموںوکشمیر میں لیوینڈر کی پیداوار کو بڑھایا گیا ہے جس سے یہاں کے کسانوں کی آمدنی میں 4سے 5گنا اِضافہ ہوا ہے۔ جموں وکشمیر میں ہزاروں کسان لیوینڈر کی کاشت کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جو ان کے لئے بہت منافع بخش ثابت ہوئی ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق 5,000 کاروبار ی اَفراد اور کسان 200 ایکڑ سے زائد اراضی پر لیوینڈر کی کاشت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت میں 4سے 5گنا اِضافہ ہوا ہے ۔ جموںوکشمیر میں روایتی طور پر کسانوں نے مکئی ، چاول اور باجرا جیسے اناج اُگائے جو زیادہ منافع نہیں دیتے تھے لیکن لیوینڈر کی کاشت سے ان کی کمائی کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔لیوینڈر کی کاشت جسے ’’ پرپل ریوولیوشن ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ جموںوکشمیر میں کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنانے کے لئے مرکزی حکومت کی ایک پہل ہے ۔بہت سے کسانوں نے روایتی کاشت کاری ترک کی ہے اور منافع کے لئے لیوینڈر فارمنگ کی طرف رُخ کیا ہے۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ علاقے کے کسان علی محمد نے کہا،’’ روایتی کاشت کاری ہمیں اَثھا منافع نہیں دے رہی تھی ۔ ہم لیوینڈر فارمنگ میںتبدیل ہونے سے بہت خوش ہیں ۔ لیوینڈر کا شت کاری بھی کم بارش سے زیادہ متاثر نہیں ہوتی ۔جموںوکشمیر میں لیوینڈر کی کاشت نے ’’ آروما مشن یا پرپل ریوولیوشن ‘‘کے تحت کسان برادری کی زندگی بد ل دی ہے ۔اسے 2016ء میں مرکزی وزارتِ سائنس اینڈٹیکنالوجی نے سائنسی اور صنعتی تحقیقی کونسل ( سی ایس آئی آر) آروماشن سے شروع کیا تھا۔اِس مشن کا مقصد درآمد شدہ خوشبو دار تیلوں سے گھریلو اُگائی جانے والی اقسام کی طرف منتقل کر کے گھریلو خوشبودار فصل پر مبنی زرعی معیشت کو ترقی دینا ہے۔جموںوکشمیر کے تقریباً تمام 20اَضلاع میں لیوینڈر کی کاشت کی جاتی ہے ۔ مشن کے تحت پہلی بار کاشت کاروں کو لیوینڈر کے پودے مفت دئیے گئے جبکہ اِس سے پہلے لیوینڈر کاشت کرنے والوں سے 5سے 6روپے فی پوداوصول کئے گئے ۔کسان آرومیٹک مشن کے تحت غیر روایتی خوشبودار پودوں کی کاشت سے خوش ہیں ۔ یہ مشن ضروری تیلوں کے لئے خوشبو دار فصلوں کی کاشت کو فروغ دیتا ہے جن کی مہک کی صنعت میں بہت زیادہ مانگ ہے۔جموںوکشمیر میں سائنسی اور صنعتی تحقیقی کونسل ( سی ایس آئی آر) او راِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف اِنٹگریٹیو میڈیسن جموں ( آئی آئی آئی ایم جموں) دو اِدارے ہیں جو پورے جموںوکشمیر آرومامشن کے نفاذ کے لئے ذمہ دار ہیں۔آروما اِنڈسٹری اور دیہی روزگار کے فروغ کے لئے زراعت ، پروسسنگ اور مصنوعات کی ترقی کے شعبوں میں مطلوبہ مداخلتوں سے آروما سیکٹر میں تبدیلی لانے کے لئے سی ایس آئی آر آرومامشن کا تصور کیا گیا ہے۔اس سے ہندوستانی کسانوں او راروما اِنڈسٹری کو مینتھول ٹیکسال کی طرز پر کچھ دیگر ضروری تیلوں کی پیداوار اور برآمد میں عالمی رہنما بننے کی اُمید ہے۔لیوینڈر کسانوں کے مطابق اِس سے کم از کم ایک لیٹر تیل کی فروخت سے انہیں 20,000 روپے ملتے ہیں ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ایک ہیکٹر زمین پر اُگائے جانے والے لیوینڈر سے انہیں کم سے کم 40 لیٹر لیوینڈر تیل ملتا ہے ۔لیوینڈر کا پانی جو لیوینڈر کے تیل سے الگ ہوتا ہے اسے اگربتی بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ہائیڈروسول جو پھولوں سے کشید کرنے کے بعد بنتا ہے اسے صابن اور روم فریشنر بنانے کے لئے اِستعمال کیا جاتا ہے۔آئی آئی ایم جموں کسانوں کو اَپنی پیداوار بیچنے میں بھی مدد کرتا ہے اور بہت سے نجی کمپنیاں بھی کسانوں سے لیوینڈر کے عرق خریدتی ہیں۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ ضلع ڈوڈہ اِس میں سب سے آگے ہے اور اِس ضلع میں سی ایس آئی آر ۔ آئی آئی آئی ایم جموں کی طرف سے چار ڈسٹلیشن یونٹ قائم کئے گئے ہیں۔ڈوڈہ ضلع کے دُور دراز علاقوں سے کسان لیوینڈر تیل نکالنے کے لئے ان پودوں تک پہنچتے ہیں ۔ ڈوڈہ کے زائد اَز 800 ترقی پسند کسانوں نے آرومیٹک کھیتی کو اَپنایا ہے جو اَب منافع بخش ثابت ہوئی ہے۔










