حکومت جموں وکشمیر میں سیری کلچرشعبے کی بحالی اور ہمہ گیر ترقی کیلئےایک کثیر الجہتی حکمت عملی پر کام کررہی ہے

سری نگر//حکومت جموںوکشمیر میں سیر ی کلچر شعبے کی بحالی اور ہمہ گیر ترقی کے لئے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں کی مجموعی ترقی کے لئے مستقبل کاروڈ میپ عالمی مانگ میں اِضافے سے مصنوعات کے معیار اور مقدار کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ جموںوکشمیر حکومت شہتوت کے باغات کے تحت رقبہ کی توسیع پر کام کر رہی ہے تاکہ پالنے والوں کے لئے پتوں کی دستیابی میں اِضافہ کیا جاسکے ۔ محکمہ جنگلات اور سیری کلچر ڈیپارٹمنٹ جموںوکشمیر کے گرین مشن کو حاصل کرنے، مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے اور ککون کے کاشت کاروں کو ان کے آس پاس کے علاقوں میں اَپنی پیداوار فروخت کرنے میں سہولیت فراہم کرنے کے لئے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے حال ہی میں ایک تقریب میں ان تمام لوگوں پر زور دیا جو ریشمی صنعت سے وابستہ ہیں ماضی سے نکل کا مستقبل کی تلاش کریں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ ہمارا بنیادی مقصد وابستہ کسانوں کی زندگی کو بہتربنانا ہے اور اِنفرادیت اور آسانی کو یقینی بنانا ہے جو کہ جموںوکشمیر کے دستکاری کی پہچا ن ہیں اور عالمی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کریں۔‘‘منوج سِنہا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں حکومت سیر ی کلچر کی ترقی کے لئے ضروری تربیت، ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات ، آئی ٹی ٹولز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔بہر کیف،حکومت اِس شعبے کو قابل عمل بنانے کے لئے مختلف اقدامات کر رہی ہے ۔ حکومت درآمد شدہ ریشم پر اَنحصار کم کرنے کے لئے ریشم میں جدید ترین تکنیکی ترقی کو اَپنانے کو اہمیت دے رہی ہے ۔تحقیق اور ترقی ، تربیت ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور آئی ٹی اقدام کے لئے ملک کے تین اہم مراکز میں سے ایک کشمیر کے پانپور میں قائم کیا گیا ہے۔جموںوکشمیر کی تحقیق ، تربیت اور توسیعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سینٹر ل سِلک بورڈ ( سی ایس بی ) نے پانپور میں سینٹر ل سیریکلچرل ریسرچ اینڈ ٹریننگ اِنسٹی چیوٹ ( سی ایس آر اینڈ ٹی آئی ) قائم کیا ہے تاکہ جموں وکشمیر میں سینٹرل سِلک بورڈکی سابقہ سرگرمیوں کو بحال کیا جاسکے ۔ یہ اِدارہ تحقیق ، ترقی اور اِنسانی وسائل کی ترقی میںاَپنے دوریجنل سیر ی کلچر ریسر چ سٹیشنز ( آر ایس آر ایس ) اور 8 ریسر چ ایکسٹینشن سینٹروں کے ذریعے سرگرم عمل ہے جن میں سے ایک آر ایس آر یس جموں میں ، دو آر اِی سیز برنوتی اور لمبیری میں کام کر رہے ہیں ۔ اِس کے علاوہ پی 4بنیادی بیج فارم ( بی ایس ایف ) جے اینڈ کے میں مانسبل آر اینڈ ڈی اور توسیع کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ پانپور میںسیری کلچر سے وابستہ کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ کرنے کے لئے زیادہ پیداوار دینے والے ریشم کے کیڑے کے ہائبرڈ جیسے ڈن 17 x ڈن 18، ڈن 6 x ڈن 22،ایس ایچ 6 xاین بی 4 ڈی 2، ایس او ایچ 1 اور شہتوت کی بہتر اقسام تیار کیا ہے۔سینٹرل سیریکلچر بورڈ بائیو ولٹائن پروڈکشن پروگرام کو فروغ دے رہا ہے جس میں 6کلسٹروں (بشمول 2میگا کلسٹروں ) سے تکنیکی مدد فراہم کی جارہی ہے ۔ اِس کے علاوہ سوئیل کی جانچ کی جدید سہولیات کو بڑھانا ہے۔ اِنسٹی چیوٹ کی مسلسل کوششوں اور ٹیکنالوجی اقدام کی وجہ سے بائیو لٹائن کو کونز کی اوسط پیداوار میں نمایاں اِضافہ ہوا ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں 2017-18ء میں شروع کی گئی سِلک سماگراہ یوجنا ملک کے ساتھ ساتھ جموںوکشمیر کی ریشمی صنعت کو مربوط طریقے سے سپورٹ کرتے ہوئے ریشم کی پیداوار کو پائیدار بنانے میں ایک گیم چینجر ثابت ہوئی ہے۔ جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے فنڈ کو 70لاکھ روپے سے بڑھا کر 3.50 کروڑ روپے کیا ہے ۔ سِلک سماگراہ مرحلہ اوّل میں تقریباً900 ریشم کے کیڑے پالنے والے براہِ راست مستفید ہوئے اور تقریباً618 ریرینگ ہائوسز بھی قائم ہوئے ۔سینٹرل سِلک بورڈ نے سلک سماگراہ مرحلہ ۔دوم کے تحت جموںوکشمیر کے لئے 35کروڑ روپے مختص کئے ہیں جس سے جموںوکشمیر یوٹی میں ریشمی صنعت سے وابستہ تقریباً27,000 کنبوں کو فائدہ ہوگا۔