سری نگر //شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ نے موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے اور کشمیر میں اقلیتوں کی حوصلہ افزائی کے لئے وادی میں ضلعی سطح پر سیکورٹی اہلکاروں کیساتھ ساتھ اقلیتوں کے لئے خصوصی کالونیاں بنانے کا مشورہ دیا۔ اس کے علاوہ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہندئو مسلم آبادی کے تناسب کو متوازن کرنے کیلئے مفت پلاٹ دے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں میں پارٹی کے مرکزی دفترپرصدر شیو سیناجموں وکشمیر منیش ساہنی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وادی سے انخلاء اور وادی میں رہنے والی اقلیتوں پر مسلسل دہشت گردانہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے اوراقلیتوںکو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ منیش ساہنی نے گزشتہ روز کشمیر کے اننت ناگ میں مہاجر مزدوروں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور دہشت گردوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنی مذموم اور بزدلانہ کارروائیوں سے باز آ جائیں۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ وادی میں اقلیتوں پر چنندہ حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لئے سخت اور ٹھوس اقدامات کرے۔صدر شیو سیناجموں وکشمیر منیش ساہنی نے کہا کہ کشمیر میں امن کی بحالی سے متعلق حکومت کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ آرٹیکل370 کی منسوخی کے 3 سال بعد بھی وادی میں ہندوؤں اور اقلیتوں کو بسانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حالات میں، وادی میں آباد ہندئو خاندانوں کو بھی ہجرت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔منیش ساہنی نے مزید کہا کہ وادی کی اقلیتوں کے حوصلے بلند کرنے کے لئے کچھ خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر حکومت سیکورٹی فورسز اور اقلیتوں کومفت پلاٹ دے گی تو اس سے کشمیر میں ہندئو مسلم تناسب کو کچھ حد تک متوازن کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے وادی کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔










