حج 2027 کیلئے جموں و کشمیر سے صرف 4,691 درخواستیں موصول

620 معمر اور 24 خواتین نے بغیر محرم درخواست دی، حتمی کوٹہ بعد میں طے ہوگا

سرینگر// حج 2027 کے لیے جموں و کشمیر سے مجموعی طور پر 4,691 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو متوقع 7,981 رکنی کوٹے سے 3,290 کم ہیں۔ رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد موصولہ درخواستوں کی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مرکز کے زیر انتظام علاقے کو مختص مکمل حج کوٹے کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر شجاعت احمد کے مطابق موصولہ درخواستوں میں 2,566 مرد اور 2,125 خواتین شامل ہیں۔ ان میں 24 خواتین نے “لیڈیز ود آؤٹ محرم” زمرے کے تحت درخواستیں جمع کرائی ہیں، جبکہ 620 درخواست گزار ایسے ہیں جن کی عمر 65 برس سے زیادہ ہے اور وہ سینئر سٹیزن زمرے میں آتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ جموں و کشمیر کے لیے متوقع حج کوٹہ 7,981 عازمین کا ہے، تاہم حتمی کوٹہ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے قومی حج پالیسی کے مطابق درخواستوں کی تعداد اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا جائے گا۔اعداد و شمار کے مطابق ضلع سری نگر سے سب سے زیادہ 1,152 درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس کے بعد بارہمولہ سے 595، اننت ناگ سے 420، بڈگام سے 404، پلوامہ سے 361، کپواڑہ سے 323 اور کولگام سے 265 درخواستیں جمع کرائی گئیں۔جموں ڈویڑن میں راجوری 174 درخواستوں کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ ضلع جموں سے 106، پونچھ سے 101، ڈوڈہ سے 85، رام بن سے 54، اودھم پور سے 50، سانبہ سے 46، ریاسی سے 38، کٹھوعہ سے 36 اور کشتواڑ سے 35 درخواستیں موصول ہوئیں۔شجاعت احمد نے بتایا کہ حج کمیٹی آف انڈیا اب تمام درخواستوں کی جانچ پڑتال کرے گی، جس کے بعد وزارتِ اقلیتی امور کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق حج کے انتخابی عمل کے اگلے مراحل شروع کیے جائیں گے۔قومی سطح پر حج 2027 کے لیے حج کمیٹی آف انڈیا کو مجموعی طور پر 2,01,725 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ریاست گجرات 31,755 درخواستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ مہاراشٹر سے 28,372، کیرالہ سے 24,500، اتر پردیش سے 22,623، کرناٹک سے 17,939، تمل ناڈو سے 14,124، تلنگانہ سے 12,021 اور مدھیہ پردیش سے 10,141 درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔ادھر حج گروپ آرگنائزرز (HGO) کے لیے مختص کوٹے کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وزارتِ اقلیتی امور اس زمرے کے لیے علیحدہ طور پر کوٹے کی تفصیلات جاری کرے گی، جس کے بعد اس سلسلے میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔