حامدی کشمیری میموریل کالج، عیدگاہ میں ماسٹر سنسار چند بھارو میموریل چیریٹی ٹرسٹ کے

حامدی کشمیری میموریل کالج، عیدگاہ میں ماسٹر سنسار چند بھارو میموریل چیریٹی ٹرسٹ کے

باہمی اشتراک سے دو روزہ آرٹ اینڈ کلچر ورکشاپ بعنوان ’رنگ چراغ” ، مبارک گل نے 15 لاکھ کی گرانٹ کا اعلان کیا

سرینگر//حامدی کشمیری میموریل گورنمنٹ ڈگری کالج، عیدگاہ، سرینگر میں ماسٹر سنسار چند بھارو میموریل چیریٹی ٹرسٹ، نئی دہلی کے باہمی اشتراک سے دو روزہ آرٹ اینڈ کلچر ورکشاپ بعنوان “رنگ چراغ” کا آغاز کیا گیا۔ اس تخلیقی ورکشاپ میں ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے معروف مصورین اور فنکاروں نے شرکت کی اور رنگوں، احساسات اور فن کے امتزاج سے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔یہ ورکشاپ فنونِ لطیفہ کے فروغ، بین الثقافتی ربط، اور امن و ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق افتتاحی نشست میں چیف گیسٹ کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایل اے عیدگاہ، جناب مبارک گل نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے یہاں آنے والے تمام مصوروں کا ہم دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک پْرامن صْبح ہے ۔یہاں کے عوام نے نہ کبھی دہشت گردی کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس کی تائید کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب پہلگام میں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو پوری وادی کے عوام نے یک زبان ہو کر اس کی پرزور مذمت کی ۔جو کشمیری عوام کے پْرامن، روادار اور باوقار مزاج کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔اس موقع پر جناب مبارک گل نے کالج کے لیے پندرہ لاکھ روپے کی گرانٹ واگزار کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کالج کی پرنسپل پروفیسر دیبا جی سرمند کی سربراہی میں ادارے کی علمی، ثقافتی اور ہم نصابی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام طلبہ کی فکری وسعت اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشتے ہیں۔ورکشاپ میں شریک مصورین کی ٹیم کی قیادت معروف مصورہ انورادا ریشی نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کالج انتظامیہ اور ٹرسٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہمیں اس ادارے کے ساتھ اشتراک کا موقع ملا۔ ہم مستقبل میں بھی طلبہ کے لیے فنونِ لطیفہ کی تربیت کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے پْرعزم ہیں۔کالج انتظامیہ کی جانب سے بھی انورادا ریشی اور ان کی پوری ٹیم کا پْرتپاک استقبال کیا گیا اور ان کے تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔ اسی موقع پر جناب مبارک گل نے بھی مصورین کو ان کے تخلیقی اشتراک اور فنکارانہ خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے والے مصورین میں شامل تھے ۔تسلیمہ سونا (راجستھان)، ڈاکٹر راکھی کمار (دہلی)، ڈاکٹر پریتی سنیکتا (حیدرآباد)، سپریا عامر (جبل پور، مدھیہ پردیش)، دیبشیش دتہ (گجرات)، شرمیلا شرما (دہلی)، دیپو کمار (بہار)، کشن کپپاری (حیدرآباد)، اپوربا کراتی (مغربی بنگال)، اور جاوید اقبال (جموں و کشمیر) جنہوں نے اپنی اپنی تخلیقات کے ذریعے رنگوں کو امن، محبت اور ہم آہنگی کا پیغام دینے کا ذریعہ بنایا۔ادارے کی پرنسپل پروفیسر دیبا جی سرمند نے بھی اپنے خطاب میں تمام معزز مہمانان، ایم ایل اے جناب مبارک گل، عنایت گل اور ملک کی مختلف ریاستوں سے تشریف لانے والے مصورین اور فنکاروں کا تہہ دل سے خیر مقدم کیا۔انہوں نے فنِ مصوری کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے متعدد معروف فنکاروں کے اقوال اور مثالیں پیش کیںاور کہا کہ:”فن، معاشرت کا آئینہ اور تہذیب کا ترجمان ہوتا ہے۔ایسے پروگرام نہ صرف طلبہ کے ذوقِ جمالیات کو نکھارتے ہیں بلکہ انہیں اظہارِ ذات کے نئے زاویے عطا کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا: “جہاں رنگ بولتے ہیں، وہاں الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ فن ہی امن کی سب سے بڑی زبان ہے۔افتتاحی نشست کے بعد مصورین نے کینوس پر رنگوں، روشنیوں اور احساسات کے امتزاج سے اپنی فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔طلبہ، اساتذہ، اور مہمانوں نے ان کے فن کو بے حد سراہا۔ورکشاپ کا یہ تخلیقی سلسلہ کل بھی جاری رہے گا۔جس میں طلبہ کو مصوری کے عملی گر سکھائے جائیں گے اور انہیں تخلیقی اظہار کے نئے امکانات سے روشناس کرایا جائے گا۔