جدید جنگی چیلنجز اور خود انحصاری کے ہدف کے درمیان جنرل دھیرج سیٹھ نے فوج کی کمان سنبھال لی
سرینگر//جنرل دھیرج سیٹھ نے منگل کو بھارتی فوج کے نئے چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) کی حیثیت سے عہدہ سنبھال لیا۔ وہ جنرل اوپیندر دویدی کے جانشین بنے ہیں، جو چار دہائیوں سے زائد عرصہ فوجی خدمات انجام دینے کے بعد منگل کو سبکدوش ہوگئے۔یو این ایس کے مطابق جنرل دھیرج سیٹھ اس وقت بھارتی فوج کی کمان سنبھال رہے ہیں جب فوج خود انحصاری، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ فورس بننے کی سمت میں پیش رفت کر رہی ہے، جبکہ سرحدی سلامتی کے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔جنرل سیٹھنیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے)، کھڑکواسلا کے سابق طالب علم ہیں۔ انہیں دسمبر 1986 میں آرمرڈ کور میں کمیشن ملا تھا۔ آرمی چیف مقرر ہونے سے قبل وہ وائس چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔وہ بھارتی فوج کے 31ویں چیف آف آرمی اسٹاف بنے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے مغربی محاذ پر قائم دو اہم آپریشنل کمانڈز کی قیادت کی۔ آرمی کمانڈر کے طور پر انہوں نے ساؤتھ ویسٹرن کمانڈ (جے پور) اور بعد ازاں سدرن کمانڈ (پونے) کی کمان سنبھالی۔تقریباً چالیس سالہ فوجی کیریئر کے دوران جنرل دھیرج سیٹھ نے آپریشنل، تزویراتی، ادارہ جاتی اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے فوج کی جدید کاری، مستقبل کی جنگی حکمت عملی اور طویل مدتی فورس اسٹرکچر کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔جنرل سیٹھ نے گزشتہ سال آپریشن سندور کے دوران سدرن کمانڈ کی قیادت کرتے ہوئے آپریشنل تیاریوں کو برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ وہ صحرائی علاقوں میں آرمرڈ رجمنٹ، مغربی محاذ پر آرمرڈ بریگیڈ اور جموں و کشمیر میں انسدادِ شورش فورس کی بھی کمان کر چکے ہیں۔یو این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر وہ فوج کی اہم اسٹرائیک فارمیشن سدرشن چکر کور کے کمانڈر رہے، جبکہ بعد میں دہلی ایریا کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی حیثیت سے قومی اور بین الاقوامی فوجی سرگرمیوں اور سرکاری تقریبات کی نگرانی بھی انجام دی۔وزارت دفاع کے مطابق جنرل دھیرج سیٹھ نے فوجی منصوبہ بندی، فورس مینجمنٹ، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کو فوجی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ ہائر کمانڈ کورس اورنیشنل ڈیفنس کالج کے گریجویٹ ہیں، جبکہ انہوں نے پیرس میں منعقد ہونے والے ممتاز کمانڈ اینڈ اسٹاف کورس میں بھی شرکت کی، جس سے انہیں عالمی عسکری امور اور جدید جنگی حکمت عملی کی گہری سمجھ حاصل ہوئی۔










