نجی سرمایہ کاری کیلئے 38080 کروڑ روپے کی تجاویز کے بعد مزید 20ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز
سرینگر// جموں کشمیر میں نجی سرمایہ کاری کیلئے سرکاری کاوشوں کے بعدحکومت کو 20,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کیلئے مزید تجاویز موصول ہوئی ہیں۔جبکہ نجی سرمایہ کاری کیلئے38080 کروڑ روپے کی تجاویز کے ساتھ حکومت نے پہلے ہی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں کشمیر میں نجی سرمایہ کاری سے روزگار کے مزید وسائل پیدا ہوں گے جس سے بے روزگاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے جموں و کشمیر میں 4400 کروڑ روپے کی لاگت سے میڈی سٹیز یابطی شہروںکے قیام کیلئے22 تجاویز کو بھی منظوری دی ہے۔سی این آئی مانٹرینگ کے مطابق ایک تفصیلی میڈیارپورٹ میں اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ اس سال 24 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے جموں و کشمیر میں38080 کروڑ روپے مالیت کی نجی سرمایہ کاری کی تجاویز کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے بعدجموںوکشمیرکی حکومت کو 20,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کیلئے مزید تجاویز موصول ہوئی ہیں۔تاہم، حکومت نے ان سرمایہ کاروں کو زمین الاٹ کر کے لینڈ بینک کو ختم کر دیا ہے جس کے سنگ بنیاد کی تقریب وزیر اعظم پہلے ہی انجام دے چکے ہیں۔بمطابق نیوزرپورٹ، ذرائع نے بتایاکہ حکومت نے اب نئی زمین حاصل کی ہے لیکن اس کا خیال ہے کہ اس کی مناسب ترقی کے بغیر اسے الاٹ کرنا اچھا نہیں ہوگا۔ اس کی ترقی کیلئے ٹینڈرز جاری کئے گئے ہیں۔ زمین میں پانی اور بجلی کے کنکشن لگائے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، زمین کو3ماہ کے اندر تیار کیا جائے گا جس کے بعد20ہزار کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری کی تجاویز، جو حکومت کے سامنے زیر التواء ہیں، کو کلیئر کر دیا جائے گا۔نجی سرمایہ کاری کیلئے38080 کروڑ روپے کی تجاویز کے ساتھ حکومت نے پہلے ہی منظوری دے دی ہے، 20,000 کروڑ روپے کی مزید تجاویز کی منظوری سے کل سرمایہ کاری 58,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہو جائے گی۔سرکاری ذرائع نے مزیدبتایاہے کہ کچھ معاملات میں، صنعتی اکائیوں یایونتوں کے قیام کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ذرائع کاکہناتھاکہ حکومت نے جموں و کشمیر میں 4400 کروڑ روپے کی لاگت سے 22 میڈی سٹیزیعنی طبی شہروں قائم کرنے کو منظوری دی ہے۔سی این آئی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ میڈی سٹیز میں پرائیویٹ ہسپتال، میڈیکل کالج وغیرہ شامل ہوں گے،اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس کی سیٹیں900 تک بڑھ جائیں گی۔سرکاری ذرائع نے بتایاہے کہ حکومت زیر التوا تجاویز کی منظوری کے بعد جموں و کشمیر میں نجی سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی توقع کر رہی ہے۔پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹس کی ترقی کے لئے کچھ تجاویز محکمہ صنعت کو سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع سے بھی موصول ہوئی ہیں جبکہ بہت سی تجاویز پائپ لائن میں ہیں،اوریہ کہ صنعتی ترقی کے لیے ’پرائیویٹ لینڈ بینکس‘ تیار کرنے کا ردعمل بہت حوصلہ افزا رہا ہے۔حکومت نے پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹس کی ترقی کے لیے5ایکڑ اراضی اور آئی ٹی/آئی ٹیز کے لیے 2 ایکڑ زمین فلیٹ شدہ رہائش میں آئی ٹی یونٹس کے لیے مقرر کی ہے۔ وہ سرمایہ کاری کے لحاظ سے کیپٹل انفراسٹرکچر سبسڈی کے حقدار ہوں گے۔ساتھ ہی حکومت نے اس سے قبل صنعتی سرمایہ کاری کے لیے تقریباً25,000 کنال مالیت کے سرکاری لینڈ بینک کی نشاندہی کی تھی۔ قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے بہت حوصلہ افزا ردعمل کے ساتھ جنہوں نے یونین ٹیریٹری میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی، سرکاری زمین تقریباً ختم ہو چکی ہے۔سرکاری عہدیداروں نے یقین ظاہر کیا ہے کہ’پرائیویٹ لینڈ بینک‘کی ترقی کے ساتھ، حکومت جموں و کشمیر میں مزید نجی سرمایہ کاری کو ایڈجسٹ کرنے کی پوزیشن میں ہوگی کیونکہ ایسی اطلاعات تھیں کہ سرمایہ کاری جلد ہی 75000 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ یونین ٹیریٹری میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے بہت سے کارپوریٹ گھرانے انتظامیہ کیساتھ رابطے میں ہیں۔










