کہیں ایک کمرے میں دو کلاس تو کہیں کلاس میں حد سے زیادہ طلبہ
سرینگر//جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق خطہ میں اس وقت کم از کم 119 ایسے سرکاری اسکول سرگرم عمل ہیں جن میں ایک بھی طالب علم داخل نہیں ہے، لیکن ان اسکولوں میں 238 اساتذہ کو تعینات رکھا گیا ہے۔اگرچہ گزشتہ برسوں میں ہزاروں سرکاری اسکولوں کو کم یا صفر انرولمنٹ کی بنیاد پر بند کر دیا گیا تھا، تاہم حیران کن طور پر اب بھی درجنوں اسکول بغیر طلباء کے چلائے جا رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم اور والدین کی جانب سے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں استاد اور طالب علم کے درمیان تناسب (Pupil-Teacher Ratio) 1:16 ہے، جبکہ قومی معیار کے مطابق یہ تناسب 1:30 ہونا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں اساتذہ کی تعداد طلباء کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ مزید ، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اوسطاً ہر اسکول میں سات اساتذہ تعینات ہیں، خواہ وہاں طلباء موجود ہوں یا نہیں۔یاد رہے کہ سال 2024 میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ 4400 سے زائد سرکاری اسکولوں کو ’صفر یا نہایت کم داخلوں‘ کی بنیاد پر بند کر دیا گیا تھا۔ جولائی 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں کل 23,117 سرکاری اسکول موجود تھے، جن میں سے 4,394 اسکولوں کو یو ڈی ا?ئی ایس ڈیٹا سے حذف کر دیا گیا۔محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسر نے تب بتایا تھا کہ جن اسکولوں میں طلباء کی تعداد نہایت کم تھی، انہیں نزدیکی سرکاری اسکولوں میں ضم کر دیا گیا تاکہ تعلیمی ڈھانچے کو مؤثر بنایا جا سکے۔ ضم شدہ اسکولوں میں اکثریت پرائمری سطح کے اداروں کی تھی۔ اس عمل کے بعد سرکاری پرائمری اسکولوں کی تعداد 12,977 سے گھٹ کر 8,966 رہ گئی۔ اسی طرح، 392 مڈل اسکول، 3 ہائی اسکول اور ایک ہائر سیکنڈری اسکول کو بھی سرکاری فہرست سے نکال دیا گیا نجی اور دیگر تعلیمی اداروں کی بات کریں تو پہلے جموں و کشمیر میں 5,688 نجی و دیگر اسکول سرگرم عمل تھے، تاہم اب یہ تعداد گھٹ کر 5,555 رہ گئی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جموں و کشمیر میں پہلے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی تعداد 28,805 تھی، جو اب کم ہو کر 24,279 رہ گئی ہے۔محکمہ تعلیم نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ اس نے 1,200 سے زائد ایسے سرکاری اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جہاں طلباء کی تعداد انتہائی کم ہے، اور ایسے اسکولوں کو طلباء کی سہولت اور علاقائی عملداری کے تحت دوسرے اسکولوں میں ضم کیا جائے گا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپریل 2022 میں ہی محکمہ تعلیم نے اعلان کیا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے 720 سرکاری اسکولوں کو کم انرولمنٹ کی بنیاد پر ضم کرنے کے لیے تیار ہے۔ادھر متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود جموں و کشمیر سمرگرہ شکشا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے اس معاملے پر تبصرہ حاصل نہیں ہو سکا۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ان اسکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی کے باوجود کوئی تعلیمی سرگرمی نہ ہونا وسائل کا ضیاع ہے، اور یہ عوامی فنڈز کے استعمال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسکولی نظام میں شفافیت لائے اور اس طرح کے بے کار اداروں کو جلد از جلد فعال یا ضم کرے۔










