جموں و کشمیر میں 2025 کے دوران 5,318 سڑک حادثات

جموں و کشمیر میں 2025 کے دوران 5,318 سڑک حادثات

پیدل چلنے والوں کی ہلاکتیں تین گنا بڑھ گئیں،امسال 603 افراد سڑک حادثات میں ہلاک

سرینگر//جموں و کشمیر میں سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 5,318 سڑک حادثات پیش آئے جن میں 984 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 7,594 افراد زخمی ہوئے۔ اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے میں حادثات اور زخمیوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم سڑک حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ رہی کہ پیدل چلنے والے افراد کی ہلاکتوں میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق یہ اعداد و شمار مرکزی وزارت برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی جانب سے جمعرات کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے، جنہیں مرکزی وزیر نتن جے رام گڈکری نے ایک غیر ستارہ دار سوال کے جواب میں ایوان کے سامنے رکھا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں جموں و کشمیر میں 5,808 سڑک حادثات ہوئے تھے، جن میں 893 افراد ہلاک اور 7,820 زخمی ہوئے تھے۔ اس کے مقابلے میں 2025 میں حادثات کی تعداد کم ہو کر 5,318 رہ گئی اور زخمیوں کی تعداد بھی گھٹ کر 7,594 ہوگئی، تاہم ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 984 تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق پیدل چلنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ 2024 میں جہاں 144 پیدل افراد سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے تھے، وہیں 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 477 ہو گئی، جو تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح پیدل زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 1,245 سے بڑھ کر 1,715 تک پہنچ گئی۔وزارت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 میں 27 جولائی تک جموں و کشمیر میں 3,269 سڑک حادثات پیش آ چکے ہیں، جن میں 603 افراد ہلاک اور 4,775 زخمی ہوئے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 226 پیدل افراد جان سے گئے جبکہ 1,005 زخمی ہوئے۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں سڑک حادثات اور اموات میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2021 میں 5,452 حادثات میں 774 افراد ہلاک اور 6,972 زخمی ہوئے تھے۔ 2022 میں حادثات بڑھ کر 6,092، اموات 805 اور زخمیوں کی تعداد 8,372 تک پہنچ گئی۔ 2023 میں 6,298 حادثات، 893 اموات اور 8,469 زخمی ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 2024 میں حادثات میں معمولی کمی کے باوجود اموات کا سلسلہ برقرار رہا۔مرکزی حکومت نے کہا کہ سڑک حادثات کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ انسانی غلطیوں، سڑکوں کی حالت، موسمی و ماحولیاتی عوامل اور گاڑیوں سے متعلق تکنیکی مسائل سمیت متعدد وجوہات ان کا سبب بنتی ہیں۔وزارت کے مطابق حد رفتار سے تجاوز (اوور اسپیڈنگ) اب بھی سڑک حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ 2024 میں اوور اسپیڈنگ سے متعلق 3 لاکھ 45 ہزار 24 کیسز سامنے آئے، جبکہ 2025 میں بھی 82 ہزار 124 حادثات اس خلاف ورزی سے منسلک پائے گئے۔اسی طرح ڈرائیور کی توجہ منتشر ہونے کے باعث 2025 میں 2 لاکھ 3 ہزار 897 حادثات پیش آئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد ایک لاکھ 46 ہزار 25 تھی، جو اس رجحان میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔حکومت نے بتایا کہ سڑکوں میں گڑھوں کی وجہ سے 2025 کے دوران 294 حادثات پیش آئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 229 تھی۔ رواں سال 27 جولائی تک گڑھوں کی وجہ سے 100 حادثات، ڈرائیور کی توجہ بٹنے سے ایک لاکھ 51 ہزار 526 اور سڑکوں کی خراب حالت سے متعلق 29 ہزار 628 حادثات درج کیے گئے۔مرکزی حکومت نے مزید بتایا کہ 2023 سے 2025 کے دوران حادثاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر آئی آئی ٹی کانپور کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ٹیکنالوجی کی مدد سے قومی شاہراہوں پر 6,358 “بلیک کوریڈورز” کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ ایسے مسلسل سڑک حصے ہیں جہاں جان لیوا یا شدید نوعیت کے حادثات کی شرح زیادہ پائی گئی۔حکومت کے مطابق ان بلیک کوریڈورز کی بہتری کے لیے مختصر مدتی اقدامات میں روڈ مارکنگ، انتباہی سائن بورڈ، کریش بیریئرز، روڈ اسٹڈز، ڈیلینیٹرز، غیر مجاز میڈین اوپننگز کی بندش، رفتار کم کرنے کے انتظامات اور شاہراہوں پر روشنی کا بہتر نظام شامل ہے، جبکہ طویل مدتی منصوبوں کے تحت سڑکوں کے ڈیزائن میں بہتری، چوراہوں کی جدید تعمیر، شاہراہوں کو کشادہ کرنا اور انڈر پاس و اوور پاس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔وزارت نے کہا کہ قومی شاہراہوں کے تمام منصوبوں میں ڈیزائن، تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے ہر مرحلے پر آزاد ماہرین کے ذریعے روڈ سیفٹی آڈٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکومت کے مطابق سڑک حادثات میں کمی لانے کے لیے تعلیم، انجینئرنگ، قانون کے نفاذ اور ہنگامی طبی امداد پر مشتمل چار نکاتی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، جس کے تحت ڈرائیونگ ٹریننگ مراکز، خودکار گاڑیوں کی جانچ، جدید حفاظتی خصوصیات اور حادثات کا مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بھی قائم کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں سڑک حادثات کی مؤثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔