جموں میں سب سے زیادہ 30 ، حادثات کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات جاری// نتن گڈکری
سرینگر//مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر اور لداخ میں قومی شاہراہوں پر حادثات کے لحاظ سے انتہائی خطرناک 74 “بلیک کوریڈورز” کی نشاندہی کی ہے، جن میں 73 جموں و کشمیر جبکہ ایک لداخ کے ضلع کرگل میں واقع ہے۔ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ان شاہراہی حصوں پر سنگین سڑک حادثات اور ہلاکتوں کی شرح زیادہ ہونے کے باعث خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق وزارت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں ضلع میں سب سے زیادہ 30 بلیک کوریڈورز کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ سامبا میں 14، کٹھوعہ میں 13، ریاسی میں 4، ادھم پور میں 4، سرینگر میں 3 اور راجوری میں 2 بلیک کوریڈورز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بارہمولہ، کولگام اور سامبا۔جموں شاہراہ کے ایک ایک حصے کو بھی حادثات کے اعتبار سے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔وزارت نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر میں سال 2020 سے 2024 کے درمیان مجموعی طور پر 10,251 سڑک حادثات پیش آئے، جن میں 1,350 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 10,690 افراد زخمی ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں 1,512 حادثات میں 258 افراد جاں بحق اور 1,470 زخمی ہوئے۔ سال 2021 میں 1,899 حادثات میں 268 افراد ہلاک اور 2,175 زخمی ہوئے، جبکہ 2022 کے دوران 2,378 حادثات میں 259 افراد جاں بحق اور 2,319 زخمی ہوئے۔یو این ایس کے مطابق سال 2023 پانچ سالہ مدت کے دوران سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوا، جب 2,342 حادثات میں 294 افراد ہلاک اور 2,456 زخمی ہوئے۔ سال 2024 میں 2,120 سڑک حادثات میں 271 افراد جاں بحق جبکہ 2,270 افراد زخمی ہوئے۔مرکزی حکومت نے یہ بھی یاد دلایا کہ چند ماہ قبل پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کی قومی شاہراہوں پر 224 حادثاتی بلیک اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے بیشتر مقامات پر اصلاحی کام مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے تاکہ سڑکوں کو مزید محفوظ بنایا جا سکے اور حادثات میں کمی لائی جا سکے۔










