صرف 2024 میں پارلیمانی انتخابات ہونگے:ذرائع
کشمیریوں کی زندگی انتخابات سے کہیں زیادہ اہم ، جبکہ حکومت کشمیر کے لوگوں کو عسکریت پسندوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی
سری نگر//ایک طرف جموں و کشمیر میں سیاسی جماعتیں اربن لوکل باڈیز اور پنچایتی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف عمل تھی وہی دوسری جانب سیکورٹی ایجنسیوں نے نئی دلی میں اعلیٰ حکام کے سامنے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر میں اربن لوکل باڈیز اور پنچایتی انتخابات کے دوران سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لئے سرحد کے اس پار رچائی جارہی ایک بڑی سازش کا حوالہ دیا ہے۔نئی دلی سے انتہائی قاب اعتماد ذرائع سے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ ان خدشات کی وجہ سے حکومت کے لئے اربن لوکل باڈیز اور پنچایتی انتخابات کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا اور یہاں تک کہ جموں و کشمیر میں اب اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کے امکانات بھی بہت حد کم ہوئے ہیں تاہم جموں کشمیر میں سال 2024 میں صرف پارلیمانی انتخابات منعقد ہونگے۔ذرائع نے بتایا کہ نئی دلی نے راجوری، پونچھ اور کوکرناگ میں حالیہ عسکریت پسندوں کے حملوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور ذرائع نے کے این ایس کو بتایا، پاکستانی عسکریت پسند انتخابات کے دوران معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ 2024 میں پارلیمانی انتخابات ہونے تک جموں و کشمیر میں یو ایل بی اور اسمبلی کے انتخابات نہیں ہوںگے،”ذرائع نے کے این ایس کو مزید بتایا کہ نئی دلی کا خیال ہے کہ انسانی جانیں” انتخابات “سے زیادہ اہم ہے۔ اس دوران بی جے پیکے ایک سرکردہ لیڈر نے ایک سینئر انٹیلی جنس افسر کے حوالے سے کہا کہ میٹنگ میں کہا گیا کہ “اگرچہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی فی الحال کوئی مقامی حمایت نہیں ہے، لیکن پاکستانی (غیر ملکی) ملی ٹینٹ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہے ہیں کہ وہ اربن لوکل باڈیز اور اسمبلی انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر کشمیریوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی زندگی انتخابات سے کہیں زیادہ اہم ہے اور حکومت اولین ترجیح کے طور پر کشمیر سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت کشمیر کے لوگوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔تاہم انہوں نے مزید کہا کہ جے اینڈ کے بی جے پی یونٹ تمام طرح کے انتخابات کے لئے پوری طرح تیار ہے، بشمول یو ایل بی، پنچایت، اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات، لیکن لوگوں کی حفاظت انتخابات کرانے سے زیادہ اہم ہے۔یہسں یہ بات قابل ذکر ہے کہ “کے این ایس ” نے کچھ دن پہلے اطلاع دی تھی کہ مرکزی حکومت کی رائے ہے کہ اربن لوکل باڈیز انتخابات کو ملتوی کرنے کی ضرورت ہے اور ممکنہ طور پر ان انتخابات کو پارلیمانی انتخابات کے بعد منعقد کیے جانے کی ضرورت ہے، جو اپریل یا مئی 2024 میں ہونے کی امید ہے۔واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کو نئی دلی میں اپنی رہائش گاہ پر جموں و کشمیر بی جے پی کے کور گروپ کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی تاکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں بلدیاتی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل زمینی صورتحال اور پارٹی کے کام کاج کا جائزہ لیا جا سکے۔ذرائع نے کے این ایس کو یہ بھی بتایا کہ میٹنگ میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، جموں و کشمیر کے انچارج ترون چْگ، بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینا، جموں و کشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا، مرکزی وزیر اور ادھم پور کے ایم پی جتیندر سنگھ، دیویندر سنگھ رانا، اشوک کول کے علاؤہ نرمل سنگھ، دیویندر منیال، جگل کشور شرما، ببدو گپتا، سنیل شرما اور ست پال شرما نے بھی شرکت کی۔










