سری نگر//آبی وسائل سے مالامال جموں وکشمیر میں بجلی بحران کوحیران کن قرار دیتے ہوئے اقتصادی ومعاشی ماہرین کاکہناہے کہ بجلی کی پیداوار میںاضافہ آمدن کااہم ترین ذریعہ بن سکتاہے ،اورساتھ ہی بجلی خریدنے پر سالانہ ہونے والے2000کروڑروپے کی رقم کومختلف ترقیاتی اورتعمیراتی کاموں پرصرف کیا جاسکتاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر میں20ہزار میگاواٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔سابقہ ریاست میں بجلی کی طلب ورسدکوپوراکرنے کیلئے کم از کم ضرورت 1600 میگاواٹ ہے،جبکہ ابھی بھی جموں وکشمیر اس وقت 1500 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے جس میں سے صرف450 میگاواٹ سابقہ ریاست پیدا کرتی ہے اور بقیہ مرکزی سرکارکی مالی معاونت سے پیداکی جاتی ۔ اقتصادی ومعاشی ماہرین کاکہناہے کہ جموں وکشمیرکی حکومت کو وافر وسائل ہونے کے باوجود، مقامی ضرورت ،طلب اورسدکوپوراکرنے کیلئے باہر سے بجلی خریدنے کیلئے سالانہ2000 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنے پڑتے ہیں جو خطیررقم کہ جموںوکشمیر کی مجموعی ترقی کیلئے استعمال کی جاسکتی تھی یاکی جاسکتی ہے۔ماہرین کامانناہے کہ جموں و کشمیر کو مزید ہائیڈرئو الیکٹرک پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کی کھپت میں خود انحصاری ہو۔ جموں وکشمیر میں لوگوں کا اپنے بجلی کے بل ادا نہ کرنا اور بجلی کے غیر قانونی کنکشن رکھنا بھی ایک عام رُجحان ہے۔ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ پیداواراورمحصولات کی کمی کے نتیجے میں بجلی کی بار بار بندش ہوتی ہے جو چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے پھلنے پھولنے کیلئے سازگار ماحول نہیں ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ حکام کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی سے بجلی کے نرخ یعنی فیس وصول کریں کیونکہ اس سے عوام کی بہتری میں مدد ملے گی۔ جموںوکشمیر ایک صنعتی طور پر پسماندہ علاقہ ہے جس کی کوئی مضبوط صنعتی بنیاد نہیں ہے۔ تاہم، بہت سی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں روایتی اور نئے دونوں شعبوں میں سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگرجموں وکشمیرمیں صرف دستیاب آبی وسائل کوبروئے کار لاکر زیادہ سے زیادہ بجلی کی پیداوارحاصل کی جائے تویہاں معاشی واقتصادی شعبوںمیں ترقی کے ایک نئے دورکی شروعات ہوگی اورساتھ ہی تعمیراتی اورترقیاتی محاذوں پربھی ایک نئے انقلاب کاآغازہوگا۔










