متبادل شجرکاری کیلئے سخت ہدایات جاری۔ جاوید احمد رانا
جموں//جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے اور اِقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے زائد ا۔ز 300 ترقیاتی پروجیکٹوں کو مختلف مراحل میں منظوری کے لئے متعدد فارسٹ کلیئرنس مل چکی ہیں۔اہم روڈ نیٹ ورکس سے لے کر واٹر سپلائی سکیموں، سیاحت، دفاع اور فورجی سروسز تک، ان منصوبوں کی منظوری سے بہتر رابطے، اِقتصادی ترقی اور عوامی خدمات میں بہتری کی راہ ہموار ہوگی۔رواں سال جنوری سے مارچ کے درمیان مجموعی طور پر 302 معاملات کو حتمی منظوری مل چکی ہے اور 84 معاملات کو اصولی منظوری دی گئی جو کہ حکومت کے وسیع ترقیاتی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ ایسے منصوبوں کو ترجیح دیتاہے جو دیرینہ بنیادی ڈھانچے کے خلا کو دور کرتے ہیں اور عوامی خدمات کو مزید بہتر بناتے ہیں۔زمین کے حصول اور جنگلاتی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے متعدد منصوبے رُکے ہوئے تھے یامقررہ وقت سے پیچھے چلنے کی کچھ وجوہات تھیں اور بعض اوقات لاگت میں اضافے کا سبب بنتی تھیں۔متعدد سڑکوں کی تعمیر سے متعلق منصوبوں کو منظور کیا گیا ہے جس سے ان منصوبوں پر بروقت عملدرآمد ممکن ہوگا۔ جنگلاتی زمین کے اِستعمال سے اہم شاہراہوں اور مقامی سڑکوں کی تعمیر اور بہتری میں مدد ملے گی جو جموں و کشمیر میں بہتر سفری سہولیات اور اشیأ و افراد کی آمدورفت میں آسانی فراہم کرے گی۔یہ سڑکیں نہ صرف ٹرانسپورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گی بلکہ اِقتصادی سرگرمیوں اور سماجی ترقی کو بھی فروغ دیں گی۔اِس کے علاوہ جل جیون مشن کے تحت مختلف واٹر سپلائی سکیموں کے لئے بھی جنگلاتی زمین کو کلیئر کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد دیہی اور دور دراز علاقوں سمیت ہر گھر تک محفوظ اور مناسب مقدار میں پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے جو حکومت کے صاف پانی کی فراہمی کے وژن کے عین مطابق ہے۔جموںوکشمیر یوٹی میںگزشتہ تین ماہ کے دوران جموں و کشمیر کے 7 اضلاع بشمول بارہمولہ، بڈگام، ڈوڈہ، جموں ،کشتوار، رام بن اور اودھمپور میں 271واٹر سپلائی سکیموں کو منظوری دی گئی ہے۔مزید برآں، یونیورسل سروس آبلی گیشن فنڈ (یو ایس او ایف) کے تحت فورجی سروسز کو یقینی بنانے کے لئے 11ٹیلی کمیو نی کیشن ٹاوروں کی تعمیر اور 8 اَضلاع میں 4 آپٹیکل فائبر کیبل (او ایف سی) منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔فارسٹ (کنزرویشن) ایکٹ کے مطابق ان پروجیکٹوں کے لئے استعمال کی جانے والی جنگلاتی اراضی کے لئے معاوضہ کے طور پر شجرکاری کی جائے گی۔ اس میں خراب جنگلاتی زمین کی بحالی شامل ہوگی تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے اور ترقیاتی سرگرمیوں کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے۔یہ جنگلاتی منظوری اُس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد دی گئی ہے جو جنوری 2025ء میں جموں و کشمیر کے وزیر جاوید احمد رانا اور مرکزی وزیر ماحولیات و جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی بھوپندر یادو کے درمیان نئی دہلی میں منعقد ہوئی تھی۔وزیر جاوید احمد رانا نے مرکزی وزیر سے درخواست کی تھی کہ وہ جنگلاتی تحفظ کے قانون کے تحت 400سے زائد زیرِ اِلتوا ٗپروجیکٹوںکی منظوری میں تیزی لائیں تاکہ جنگلاتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مزید تاخیر کے بغیر شروع کئے جا سکیں۔ مرکزی وزیر نے یقین دہانی کی تھی کہ ان تجاویز کو ترجیحی بنیادوں پر زیر غور لایا جائے گا اور منظوری و فنڈز کی فراہمی کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔تاہم، ان منظوریوں کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ ترقی اور دیرپایت کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔وزیر جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے حکومت کے ترقیاتی مواقع کو وسعت دینے اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت دی کہ متبادل شجرکاری کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں کہ جنگلات کا رقبہ کم نہ ہو اور متعلقہ حکام کی طرف سے شجرکاری کے لئے معاوضہ زمین فراہم کی جائے۔‘‘
وزیر موصوف نے مزید کہا، ’’اگر کسی ترقیاتی منصوبے کے لئے کوئی جنگلاتی زمین اِستعمال کی جا رہی ہے، تو اتنی ہی مقدار میں جنگلاتی زمین معاوضہ کے لئے دی جائے گی۔‘‘یہ منظوریاں ترقیاتی ضروریات کو ماحولیاتی مدنظر رکھتے ہوئے متوازن کرنے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیںتاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی ماحولیاتی دیرپا کے اصولوں کے مطابق آگے بڑھے۔جاوید احمد رانا نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبے کم سے کم ماحولیاتی خلل کے ساتھ مکمل کئے جائیں اور محکمہ جنگلات دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ ان اہم منصوبوں پر عمل درآمد کو تیز کیا جا سکے۔










