10برسوں کے دوران478انسانی جانیں تلف:سونم لوٹس
سری نگر//جموں وکشمیراورلداخ میں سال2012سے اکتوبر2021تک موسمی قہر کی زدمیں آکرکل 478انسانی جانیں تلف ہوئیں جبکہ کروڑہاروپے مالیت کی املاک بشمول کھیت کھلیانوں اورمیوہ باغات کونقابل تلافی نقصان پہنچا۔ موسمی قہرسامانیوں بشمول گرج چمک کیساتھ بارشوں،شدیدژالہ باری ،سیلابی صورتحال،بادل پھٹنے یارعدوبرق کے واقعات،لینڈسلائیڈنگ یالغزش زمین کے حادثات اوربرفانی تودے گرآنے کے واقعات ایسے عوامل ہیں ،جن کی وجہ سے گزشتہ10برسوں کے دوران جان ومال کابھاری نقصان ہوا ہے ۔سال2012سے اکتوبر2021کے آسمانی یاموسمی قہر سے ہوئے جانی نقصان کی تفصیلات ماہرموسمیات سونم لوٹس نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر دی ہیں ۔انہوںنے سال2012سے اکتوبر2021تک ہوئی اموات کاایک خاکہ کھینچا ہے ۔سری نگرمیں قائم محکمہ موسمیات کے سربراہ سونم لوٹس کی جانب سے دی گئی جانکاری کے مطابق جموں وکشمیر اورلداخ میں گزشتہ دس برسوں کے دوران آسمانی یاموسمی قہر کی زدمیں آکرکل 478انسانی جانیں تلف ہوئیں۔سونم لوٹس کی جانب سے فراہم کردہ جانکاری کے مطابق 64افرادلینڈسلائیڈنگ یالغزش زمین کے حادثات کے دوران جاں بحق ہوئے ہیں ۔انہوںنے لکھاہے کہ 201افراد برفانی تودوںکی زدمیں آکر مارے گئے ،جن میں سے161جموں وکشمیر میں اور40افرادخطہ لداخ میں ازجان ہوئے ہیں ۔ماہرموسمیات سونم لوٹس کے مطابق رعدوبرق ،گرج چمک کیساتھ بارشوں کی وجہ سے 40انسانی جانیں تلف ہوئیں۔انہوںنے مزیدجانکاری دی کہ شدیدبارشوں سے پیداہونے والی سنگین صورتحال بشمول سیلاب کی وجہ سے سال2012سے اکتوبر2021تک کل 213انسانی جانیں تلف ہوئیں۔سونم لوٹس نے کہاہے کہ شدیدبارشوں،رعدوبرق کے زیادہ ترواقعات جموں صوبہ میں وقوع پذیر ہوئیں اوراس وجہ سے زیادہ اموات بھی وہیں ہوئی ہیں جبکہ برفانی تودے گرآنے سے زیادہ تراموات کشمیر اورلداخ میں واقعہ ہوئی ہیں ۔










