جموں وکشمیر اورلداخ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقریب حلف برداری
سری نگر//جسٹس علی محمد ماگرے نے جموں وکشمیر اورلداخ ہائی کورٹ کے کل35ویں چیف جسٹس کاحلف اُٹھالیا۔وہ 1947کے بعدجموں وکشمیر اورلداخ ہائی کورٹ کے 29ویں چیف جسٹس بنے ۔جے کے این ایس کے مطابق جمعرات کی صبح جھیل ڈل کے کنارے پرواقعSKICCمیں ایک اہم اورغیرمعمولی حلف برداری تقریب منعقد ہوئی ،جس میں جسٹس علی محمد ماگرے نے جموں وکشمیر اورلداخ ہائی کورٹ کے کل35ویں چیف جسٹس کاحلف اُٹھالیا۔جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جسٹس علی محمد ماگرے کو جموں وکشمیر اورلداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کاحلف دلایا۔جسٹس علی محمد ماگرے کو لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو صبح ٹھیک11بجکر30منٹ پربطورچیف جسٹس کے عہدے کا حلف دلایا، جب جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل نے ان کی تقرری کا وارنٹ پڑھ کر سنایا۔حلف برداری کی اس تقریب میں ہائی کورٹ کے موجودہ جج صاحبان ،کچھ ریٹائرڈ جج صاحبان، جوڈیشل افسران، ایڈووکیٹ جنرل، درجنوںوکلاء ، جموں و کشمیر کے سینئر سیاستدانوں بشمول ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے چیئرمین غلام نبی آزاد، این سی ایم پی جسٹس (ر) حسنین مسعودی، راجیہ سبھا ممبر غلام علی کھٹانہ، جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی سابق چیف جسٹس گیتا متل، وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشان اندرابی اورمیئر سری نگرمیونسپل کارپوریشن جنید عظیم مٹو،چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا سمیت اعلیٰ بیوروکریٹس اورسینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔خیال رہے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کاقیام 94سال قبل28مارچ 1928کو اُسوقت کے ڈوگرہ مہاراج ہری سنگھ نے عمل میں لایاتھا،اورجسٹس کنور سنگھ پہلے چیف جسٹس بنے تھے ۔اسکے بعد1946تک مزید 6چیف جسٹس بنے جبکہ مہاراجہ دور کے آخری چیف جسٹس ایس کے گھوش29مارچ1948تک اس عہدے پر فائزرہے۔30مارچ 1948کوجسٹس جانکی ناتھ وزیر کوجموںوکشمیر ہائی کورٹ کاچیف جسٹس بنایا گیا،اوروہ 2دسمبر1967تک اس اہم ترین عہدے پر برقراررہے ۔کل ملاکرجسٹس علی محمد ماگرے نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے35ویں چیف جسٹس کے بطور یہ اہم عہدہ سنبھالاہے جبکہ1947کے بعدوہ جموں وکشمیرکی اس اعلیٰ ترین سویلین عدالت کے29ویں چیف جسٹس ہیں ۔جموں وکشمیر اورلداخ ہائی کورٹ میں منظور شدہ ججوں کی تعداد17 ہے، جن میں سے13 مستقل جج ہیں، اور 4 ایڈیشنل جج ہیں۔










