جاوید رانا نے کشمیر کی کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کو برقرار رکھنے کیلئے وِلو کی کاشت کے احیأ کی ہدایت دِی

جاوید رانا نے کشمیر کی کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کو برقرار رکھنے کیلئے وِلو کی کاشت کے احیأ کی ہدایت دِی

معیاری وِلو لکڑی کی دیرپا فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مربوط اَقدامات کی ضرورت پر زور دیا

سری نگر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے آج متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ کشمیر بھر میں ولو کی کاشتکاری کی بحالی کے لئے مربوط مہم شروع کریں اور شجرکاری کا دائرہ وسیع کریں تاکہ کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کے لئے معیاری لکڑی کی مستقل اور دیرپافراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اُنہوں نے یہ ہدایات وِلو سیکٹر کو درپیش چیلنجوں پر غوروخوض کرنے اور اِس کی بحالی اور ترقی کے لئے طویل المدتی روڈ میپ بنانے کے لئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کے دوران جاری کی گئیں۔اس اجلاس میں پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس، جموں و کشمیر، سرویش رائے؛ چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس، کشمیر، عرفان رسول وانی، کے علاوہ محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔وزیر موصوف نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو ملک میں ایک منفرد مقام حاصل ہے کیوں کہ کرکٹ بیٹ بنانے کے لئے اِستعمال ہونے والی خصوصی قسم کی ولو کی لکڑی صرف یہی خطہ فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے کشمیر ملک کی کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کا مرکز بن چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بالخصوص جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قائم سینکڑوں کرکٹ بیٹ بنانے والی یونٹس وِلو کی کاشت، لکڑی کی تجارت اور بیٹ سازی سے وابستہ ہزاروں اَفراد کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کر رہی ہیں۔جاوید رانا نے معیاری وِلو کی لکڑی کی مسلسل کم ہوتی دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ وِلو کے درختوں کی اندھا دھند کٹائی اور مناسب پیمانے پر دوبارہ شجرکاری نہ ہونے کے باعث خام مال کی فراہمی غیر یقینی ہو گئی ہے جس سے مقامی صنعت کاروں کی پیداواری لاگت میں بھی اِضافہ ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’وِلو لکڑی کی کم ہوتی دستیابی ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ باغات کی توسیع، بہتر ولو کلون متعارف کرنا اور منظم طریقے سے دوبارہ پلانٹ کرنا ایک ترجیح بننا چاہیے تاکہ صنعت خام مال کی کمی کا سامنا کئے بغیر ترقی کرتی رہے۔‘‘وزیرموصوف نے کہا،’’ولو کی لکڑی کی دستیابی میں کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ شجرکاری کے رقبے میں اِضافہ، بہتر اقسام کے ولو کے پودوں کا تعارف اور منظم انداز میں دوبارہ شجرکاری کو ترجیح دینا ناگزیر ہے تاکہ صنعت کو خام مال کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘اُنہوںنے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ وہ ضلعی کمشنروں کے اِشتراک سے وادی کے نشیبی اور دلدلی علاقوں کی نشاندہی کرے تاکہ وہاں بید کی شجرکاری کو وسعت دی جا سکے۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سٹیٹ فارسٹ ریسرچ اِنسٹی چیوٹ (ایس ایف آر آئی) بید کی بہتر اقسام اور کلون متعارف کرئے گا اور اعلیٰ معیار کا پودا دستیاب بنائے گا تاکہ پیداوار اور دیرپائی میں اِضافہ ہو سکے۔وزیر موصوف نے کہا،’’ہمارا مقصد سائنسی بنیادوں پر اِنتظام، معیاری پودوں کی دستیابی، نئی شجرکاری کے لئے موزوں علاقوں کی نشاندہی اور کسانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے بید کی کاشت کا ایک خود کفیل نظام قائم کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف ہزاروں اَفراد کا روزگار محفوظ ہوگا بلکہ کرکٹ بیٹ کی تیاری کے قومی مرکز کے طور پر کشمیر کی منفرد حیثیت بھی برقرار رہے گی۔‘‘اُنہوں نے محکمہ زراعت کو بھی ہدایت دی کہ وہ اپنے فارموں اور تحقیقی مراکز میں معیاری بید کے پودے تیار کرے تاکہ بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کو تقویت مل سکے۔میٹنگ میں سرکاری بید کے باغات کے سائنسی انتظام اور توسیع، بالغ اور زائد العمر درختوں کی بروقت نیلامی کے ذریعے خام مال کی دستیابی بڑھانے، بید کے درختوں کی کٹائی اور لکڑی کی ٹرانسپورٹیشن کے اجازت ناموں کے نظام کو آسان بنانے، کشمیر کے بید سے تیار ہونے والے کرکٹ بیٹس کی برانڈنگ اور جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ کے حصول پر بھی غور وخوض کیا گیا۔میٹنگ میں جنگلات، زراعت، صنعت و حرفت، ایم ایس ایم ای اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان مضبوط تال میل پر زور دیا گیا تاکہ اس شعبے کی ترقی کے لئے ایک جامع اور طویل مدتی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔